برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرنے پر برطانیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ

0

لندن: متعدد برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرنے پر برطانیہ کی حکومت سے باضابطہ معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ارکان پارلیمنٹ نے برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ 1917 کے بالفور اعلامیے کے نتائج آج بھی سامنے آ رہے ہیں، جس نے بعد ازاں 1948 میں اسرائیل کے قیام اور فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی اور قتل عام کی راہ ہموار کی۔

خط پر 45 سے زائد برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور ایوانِ لارڈز کے اراکین نے دستخط کیے ہیں۔ خط میں برطانوی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تاریخی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر معافی مانگے۔

ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ماضی کے فیصلوں کے اثرات آج بھی خطے میں عدم استحکام اور انسانی المیے کی صورت میں محسوس کیے جا رہے ہیں، اس لیے برطانیہ کو اپنی تاریخی ذمہ داری کا اعتراف کرنا چاہیے۔

پس منظر:

پہلی جنگ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ کی شکست کے بعد برطانیہ نے فلسطین کا انتظام سنبھال لیا تھا اور 1948 تک اس خطے پر برطانوی مینڈیٹ قائم رہا۔ تاہم برطانیہ کی مختلف حکومتیں اب تک اس دور کے اقدامات پر باضابطہ معافی مانگنے یا مکمل ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتی آئی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.