علی خامنہ ای کی شہادت: مہینوں کی نگرانی، ایک منٹ کی بمباری اور تہران میں فیصلہ کن حملہ

0

تہران میں صبح سویرے حملہ، ایرانی قیادت کی شہادت کی تصدیق

تہران میں ہونے والے ایک بڑے فضائی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے۔ ایرانی حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ ایک زیرِ زمین بنکر کو نشانہ بنا کر کیا گیا جہاں اعلیٰ سطحی دفاعی اجلاس جاری تھا۔ ملبے سے ملنے والی تصاویر نے واقعے کی شدت کو مزید واضح کردیا۔

حملے میں ایران کے وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی شمخانی اور آرمی چیف عبدالرحیم موسوی سمیت متعدد اعلیٰ عسکری و سکیورٹی شخصیات بھی جان کی بازی ہار گئیں۔

محفوظ مقام پر منتقلی کی خبروں کی تردید

چند ہفتے قبل امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز  نے دعویٰ کیا تھا کہ خامنہ ای ممکنہ خطرات کے پیش نظر روس یا کسی اور ملک منتقل ہوسکتے ہیں۔ تاہم ان کے دفتر کے ترجمان نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ایرانی رہبر اپنے وطن کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔واقعے کے بعد یہ بیانات ایک بار پھر زیرِ بحث آگئے ہیں، کیونکہ خامنہ ای نے آخری وقت تک ایران میں ہی قیام کیا۔

مہینوں کی منصوبہ بندی اور سخت نگرانی

اطلاعات کے مطابق ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیاں کئی ماہ سے متحرک تھیں۔ نقل و حرکت، ملاقاتوں اور روزمرہ معمولات کا تفصیلی ڈیٹا جمع کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ خامنہ ای کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی تھی اور ان کے پیٹرن کا مکمل تجزیہ کیا جا چکا تھا۔

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ایک اہم اطلاع ملی کہ رہبر اعلیٰ ہفتہ کی صبح ایک مخصوص کمپاؤنڈ میں دفاعی اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اس اطلاع کے بعد فوری کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

60 سیکنڈ کا آپریشن، 30 بموں کی بارش

عموماً ایسی کارروائیاں رات کی تاریکی میں کی جاتی ہیں، لیکن اس بار صبح کے وقت حملہ کیا گیا۔ اسرائیلی فضائیہ نے زیرِ زمین تہہ در تہہ بنکر کو نشانہ بنانے کے لیے تقریباً 30 مختلف نوعیت کے بم استعمال کیے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ پورا آپریشن محض ایک منٹ میں مکمل کرلیا گیا اور بنکر میں موجود کسی بھی فرد کے بچنے کا امکان ختم کردیا گیا۔

 خفیہ نگرانی کا جال

انٹیلی جنس ماہرین کے مطابق نگرانی کے لیے ٹیلی فون اور مواصلاتی نظام کی ٹریکنگ، قریبی سیکیورٹی عملے کی مانیٹرنگ، زمینی مخبروں اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔

اسرائیلی خفیہ ادارہ موساد طویل عرصے سے ایران کے اندر اپنے نیٹ ورک کے ذریعے معلومات اکٹھی کرتا رہا ہے، جس کی بنیاد پر ماضی میں بھی کئی اہم شخصیات کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

خطے میں کشیدگی کا نیا مرحلہ

اس واقعے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نئی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایرانی قیادت پر یہ حملہ خطے کی سیاست، سلامتی اور عالمی طاقتوں کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل اور عالمی برادری کا ردِعمل آنے والے دنوں میں صورتحال کو مزید واضح کرے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.