آپریشن غضب للحق میں اب تک طالبان رجیم کے 274 اہلکار ہلاک، 400 زخمی ہوئے: ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی :ڈی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری آپریشن غضب للحق کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ 21 اور 22 فروری کی شب پاکستانی افواج نے بارڈر کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، افغان طالبان رجیم نے اسے بنیاد بناکل کر سوکالڈ ایکشن کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہاکہ طالبان رجیم کی جانب سے پاک افغان بارڈر پر 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، تمام 53 مقامات پر حملوں کو پسپا کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایسا بھرپور جواب دیا کہ دنیا نے دیکھا، تمام53 مقامات پر دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن غضب للحق میں 274 طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج ہلاک، جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ طالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی گئیں، طالبان رجیم کی 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں جبکہ دشمن کے 115 ٹینک، بکتربند گاڑیاں تباہ کی جاچکی ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق آپریشن میں اب تک پاکستانی فوج کے 12 سپوت شہید جبکہ 27 زخمی ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 22ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ایبٹ آباد اور نوشہرہ میں ڈرون حملوں کو ناکام بنادیا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کی پناہ گاہیں اور اسلحہ ڈپو تباہ کیے گئے، دہشتگرد اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ نکلے۔
