گرین لینڈ پر قبضے کا معاملہ: یورپی ممالک نے ٹرمپ کی ٹیرف دھمکیوں کو مسترد کر دیا
برسلز/لندن: گرین لینڈ پر قبضے کے معاملے پر یورپی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ دباؤ اور بلیک میلنگ کے ذریعے فیصلے مسلط نہیں کیے جا سکتے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اتحادی ممالک کے خلاف امریکی ٹیرف کے استعمال کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات شراکت داری اور باہمی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ برطانیہ کی وزیر خارجہ یویٹ کوپر نے بھی دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کا مستقبل صرف گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کے فیصلے سے وابستہ ہے۔
ڈنمارک کے وزیراعظم نے کہا کہ یورپ صدر ٹرمپ کی دھمکیوں میں نہیں آئے گا، جبکہ ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ دھمکیوں کے ذریعے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر گرین لینڈ پر امریکی فوجی کارروائی ہوئی تو یہ نیٹو کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
فرانس، جرمنی اور ناروے نے بھی صدر ٹرمپ کے بیانات کو بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ یورپی ممالک کے مشترکہ ردعمل کے لیے یورپی یونین کا ہنگامی اجلاس جمعرات کو طلب کر لیا گیا ہے۔
چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کی مخالفت کرنے والے یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے یکم فروری سے یورپی ممالک سے درآمد ہونے والی تمام اشیا پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے اور یکم جون سے اسے 25 فیصد تک بڑھانے کا عندیہ دیا تھا۔ ان ممالک میں برطانیہ، ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ شامل ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے مؤقف پر سو فیصد قائم ہیں اور اگر گرین لینڈ کے معاملے پر یورپی ممالک نے مخالفت جاری رکھی تو وہ ٹیرف عائد کر دیں گے۔
