18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلا ثابت ہوئی، تمام اختیارات صوبوں کو منتقل ہو گئے، خواجہ آصف

0

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلا ثابت ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں تمام اختیارات صوبائی حکومتوں کو منتقل ہو گئے، جبکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جا سکے۔ کراچی میں پیش آنے والے حالیہ واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اختیارات مقامی سطح تک منتقل کیے جائیں۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے سانحہ گل پلازہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ کراچی میں آتشزدگی کے واقعے پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے، جبکہ ڈمپرز کے حادثات میں بھی قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے وقت اتفاقِ رائے تھا کہ لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنایا جائے گا، تاہم عملی طور پر ایسا نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ خواہش تھی کہ گوادر سے گلگت تک یکساں تعلیمی نصاب ہو، مگر یہ خواب پورا نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق کراچی جیسے بڑے شہر میں ہونے والے واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جب تک عوام کو اختیارات منتقل نہیں کیے جائیں گے، یہ ایوان بے معنی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ جب بھی ملک میں آمریت آئی، اس نے بااختیار لوکل گورنمنٹ متعارف کرائی۔ ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ادوار میں لوکل باڈیز کے انتخابات کرائے گئے، جبکہ جمہوری ادوار میں ہم خود لوکل گورنمنٹ کے انتخابات نہیں کراتے اور اگر شیڈول بھی آئے تو بہانے بنا لیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک اور نظام کی بقا کے لیے لوکل گورنمنٹ کو مضبوط کرنا ہوگا۔ وزیر دفاع نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین کے موجودہ صدر بھی ایک سیاسی اور مقامی نظام سے ابھر کر سامنے آئے، لوکل گورنمنٹ سے ہی قیادت جنم لیتی ہے اور آگے بڑھتی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ آگ کا واقعہ ہمارے پورے سسٹم کی تباہی کی علامت ہے۔ عوام کو مضبوط بنانے کے لیے مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ملک میں ایک مضبوط لوکل گورنمنٹ سسٹم قائم ہو تاکہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ اب ایسا نظام بننا چاہیے جس میں صوبے سے تحصیل اور وارڈ کی سطح تک اختیارات منتقل ہوں، ورنہ اگر یہی صورتحال رہی تو آخر میں وزارت دفاع کی فائر بریگیڈ ہی آگ بجھانے کے لیے آئے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے استحکام کے لیے اب ٹھوس فیصلے کرنا ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.