مودی سرکار بھارتی فوج کی بدعنوانیوں کو چھپانے میں ناکام، قطر میں سابق افسر کی گرفتاری بھارت کی عالمی سطح پر ہزیمت کا سبب
نئی دہلی/دوحہ:بھارتی فوج کی بدنامِ زمانہ بدعنوانیوں اور پیشہ ورانہ ناکامیوں کا تازہ ثبوت قطر میں سامنے آیا ہے، جہاں سابق بھارتی نیوی افسر کمانڈر پورنیندو تیواری کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ یہ واقعہ بھارت کی عسکری ساکھ اور مودی سرکار کی سفارتی صلاحیتوں کے لیے ایک نئی آزمائش بن گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی تصدیق کے بعد بھارتی جریدہ انڈین ایکسپریس نے بھی بھارتی فوج کی عالمی سطح پر ہزیمت کا اعتراف کیا۔ رپورٹ کے مطابق قطر نے پورنیندو تیواری کو اگست 2022 میں سات دیگر سابق بھارتی اہلکاروں کے ساتھ حراست میں لیا تھا۔ اکتوبر 2023 میں قطری عدالت نے جاسوسی کے الزام میں 8 سابق بھارتی بحریہ افسران کو سزائے موت سنائی جس نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا۔
بھارتی حکومت کی مداخلت کے باوجود، فروری 2024 میں سنگین الزامات کے باعث پورنیندو تیواری کو بھارت کے حوالے نہیں کیا گیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، یہ گرفتاری محض ایک کیس نہیں بلکہ بھارتی فوج کی غیر پیشہ ورانہ تربیت، اندرونی بدعنوانی اور اخلاقی جرائم کی عالمی منظر پر عکاسی ہے۔
*مودی سرکار بھارتی فوجیوں کی بدعنوانی چھپانے میں ناکام، بھارت کی ایک اور مکروہ چہرہ فاش*
— Raja Shafqat Khan (@RajaSK142) January 12, 2026
ماہرین نے کہا کہ بھارتی فوج میں رشوت خوری، جنسی استحصال اور دیگر جرائم نے نہ صرف فوج کے پیشہ ورانہ دعووں کو نقصان پہنچایا بلکہ بھارت کی عسکری ساکھ کو عالمی سطح پر بھی متاثر کیا ہے۔ مزید برآں، سیفرونائزیشن اور ہندوتوا نظریات کے فروغ نے فوج کو پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے محروم اور بدعنوانی کا شکار بنا دیا ہے۔
یہ گرفتاری اور بھارت کی ناکام سفارتی کوششیں بھارتی فوج کی داخلی کرپشن، اخلاقی بحران اور عسکری کمزوریوں کو بے نقاب کر رہی ہیں، جو نہ صرف بھارت بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی تشویشناک ہیں۔
