افغان طالبان رجیم کی عوام دشمن پالیسیوں نے افغانستان کو انسانی المیے میں دھکیل دیا

0

کابل:افغان طالبان رجیم کی حکمرانی میں افغانستان ایک سنگین انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جہاں خواتین کے حقوق پامال، نوجوان بے روزگار، اور عام لوگ غربت کے ہاتھوں بے بس ہیں۔

سماجی کارکن اور صحافی جہانزیب ویساکے مطابق، شدید غربت اور مالی مشکلات کے سبب افغان خواتین زندہ رہنے کے لیے انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں اور بعض خواتین مجبوراً اپنے بچوں کو بیچنے پر غور کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔

 ایک افغان خاتون نے بتایا:”بیماری اور شدید غربت سے لڑ رہی ہوں، ہمارے پاس روزگار نہیں اور کوئی مددگار بھی نہیں، زندگی گزارنا ہمارے لیے موت سے کم نہیں۔ اتنی مشکلات کے بعد زندہ رہنے کے لیے اپنے بچے کو بیچنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوں۔”

جہانزیب ویسا نے مزید کہا کہ طالبان کی پالیسیوں نے افغان نوجوانوں کو وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے، اور شدید سردی میں ترکی اور ایران کی سرحد عبور کرنے کی کوشش میں ایک نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ ایلس میکڈونلڈ نے افغان خواتین کے حقوق اور لڑکیوں کی تعلیم کے بحران پر عالمی برادری سے خاموشی توڑنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا:”افغانستان میں خواتین کے حقوق کے بحران اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کو نظرانداز کرنا افغان خواتین سے غداری کے مترادف ہے۔ طالبان رجیم میں کم عمر اور بالغ خواتین کی موجودہ صورتحال انتہائی تباہ کن ہے۔”

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان رجیم کی آمریت، بے روزگاری، آزادیِ رائے کی کمی اور ناکام معاشی پالیسیوں نے افغان عوام کو غربت، بھوک اور انسانی المیے کی دلدل میں دھکیل دیا ہے، اور ملک میں مستقبل کے امکانات تاریک نظر آ رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.