پاکستان اور برطانیہ: ایس آئی ایف سی کی اصلاحاتی پالیسیوں کے تحت سرمایہ کاری اور عالمی شراکت داری میں نئی پیش رفت

0

اسلام آباد:پاکستان عالمی معاشی شراکت داریوں میں ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے، جس کی بنیادایس آئی ایف سی کے اصلاحاتی وژن اور سرمایہ دوست حکمتِ عملی نے فراہم کی ہے۔ معاشی استحکام اور پالیسی تسلسل کے تحت پاکستان بین الاقوامی اقتصادی تعاون کے لیے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔

برطانوی وزیر برائے ترقی جینیفر چیپمین کے حالیہ دورے کے دوران دونوں ممالک نے ترقیاتی شراکت داری کو ازسرِنو استوار کرتے ہوئے سرمایہ کاری، تجارت، تعلیم اور موسمیاتی تعاون کے نئے اقدامات کا اعلان کیا۔ یہ اعلیٰ سطحی ترقیاتی مکالمہ آٹھ برس بعد ہوا، جس میں نئی شراکت داری روایتی امداد کے بجائے معاشی ترقی اور سرمایہ کاری پر مرکوز ہے۔

برطانوی حکام کے مطابق، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دو طرفہ تجارت پہلی بار5.5 ارب پاؤنڈ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پاکستان میں سرگرم برطانوی کمپنیوں کی تعداد 200 سے زائد ہو گئی ہے، جو سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری اور کاروباری اعتماد میں اضافے کا عملی ثبوت ہے۔

دورے کے دوران وزیرِ اعظم پاکستان اور برطانوی وزیر نے سرمایہ کاری دوست کاروباری اصلاحات کے جامع پیکیج کا مشترکہ اجرا کیا، جس کا مقصد سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید بہتر بنانا، ریگولیٹری رکاوٹوں کا خاتمہ اور غیر ملکی کمپنیوں کے لیے کاروبار کو آسان بنانا ہے۔

مزید برآں برطانوی وزیر نے وزیرِ موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کے ہمراہ گرین کمپیکٹ پروجیکٹ کا باضابطہ آغاز کیا۔ اس پروجیکٹ کے تحت موسمیاتی تعاون، گرین سرمایہ کاری، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اقدامات کو منظم انداز میں فروغ دیا جائے گا۔

ایس آئی ایف سی کی ہم آہنگ، متوازن اور دوررس پالیسیوں نے نہ صرف معیشت بلکہ ماحولیات کے شعبے میں بھی پاکستان کے عالمی تشخص کو مضبوط کیا ہے۔ بصیرت افروز قیادت کے تحت پاکستان معاشی ترقی، موسمیاتی تعاون اور عالمی اعتماد کے ایک نئے، مستحکم اور تابناک دور میں داخل ہو چکا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.