اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے حکومتی حکمت عملی تیار، وزیراعظم نے گرین سگنل دیدیا

0

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے حکمت عملی تیار کرلی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس عمل کے آغاز کے لیے گرین سگنل دے دیا ہے۔ تاہم اپوزیشن کے اندر اختلافات کے باعث بات چیت کا عمل ابھی تک تعطل کا شکار ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت نے مذاکرات کے لیے باقاعدہ حکمت عملی کو حتمی شکل دی ہے، جس کا مقصد ملک میں سیاسی کشیدگی میں کمی اور استحکام پیدا کرنا ہے۔ اسی منصوبے کے تحت وزیراعظم نے **قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کو مذاکراتی عمل شروع کرنے کی اجازت دی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے کہ مذاکرات صرف تحریک انصاف کے منتخب پارلیمانی نمائندوں سے کیے جائیں گے، جبکہ منتخب قیادت کے علاوہ کسی اور فرد یا گروپ سے بات چیت نہیں ہوگی۔ حکومت کی جانب سے ایک وفد بھی تیار ہے جو اسپیکر کی درخواست پر فوری طور پر مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے موجود ہوگا۔

ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو اپنے چیمبر میں آ کر مذاکرات شروع کرنے کی دعوت دی ہے۔ اگر اپوزیشن آمادگی ظاہر کرے تو اسپیکر قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلانے پر بھی تیار ہیں۔

تاہم اب تک کسی اپوزیشن رہنما نے باضابطہ طور پر اسپیکر سے رابطہ نہیں کیا، جس کے باعث مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے مذاکرات کو قائد حزب اختلاف کی تقرری سے مشروط کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ جب تک محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر نہیں کیا جاتا، اس وقت تک کسی قسم کی بات چیت ممکن نہیں۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں اور اسپیکر کے درمیان ہونے والی آخری ملاقات بھی اسی مطالبے کے گرد گھومتی رہی، جس میں قائد حزب اختلاف کی تقرری کے علاوہ کسی اور سیاسی مفاہمت یا مذاکراتی ایجنڈے پر بات نہیں ہو سکی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے مذاکرات ہی سیاسی استحکام کی واحد راہ ہیں اور اس حوالے سے مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق اب یہ اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرے اور اسپیکر کی پیشکش پر مثبت ردعمل دے، جس کے بعد ہی سیاسی مکالمے کا آغاز ممکن ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.