سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ٹوکنائزیشن، وزیر خزانہ کی عالمی وفد سے ملاقات
اسلام آباد :پاکستان میں کیپٹیل مارکیٹ کو وسعت دینے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ٹوکنائزیشن اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو اپنانے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت نے ڈیجیٹل فنانس اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تکنیکی مہارت رکھنے والے بین الاقوامی کاروباری گروپس سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔
بدھ کے روز وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے ون گروپ کے چیئرمین سید ذیشان شاہ کی قیادت میں آئے ایک اعلیٰ سطحی کاروباری وفد سے ملاقات کی، ون گروپ عالمی سطح پر ریئل اسٹیٹ اور وینچر کیپیٹل کے شعبے میں سرگرم ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں ٹوکنائزیشن، مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر سے متعلق عالمی رجحانات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ پاکستان میں مالیاتی شعبے کی اصلاحات اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے کے تحت تعاون کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔
غیر ملکی وفد نے حکومت کے ساتھ شراکت داری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور حقیقی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن، بلاک چین پر مبنی پلیٹ فارمز، اے آئی سے چلنے والے حل اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تکنیکی مہارت، مشاورتی معاونت اور صلاحیت سازی کی پیشکش کی۔
وفد نے عالمی سطح پر رائج بہترین طریقہ کار اور نجی شعبے کی جدت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے پاکستان میں شفافیت، کارکردگی، سرمایہ کاروں کی رسائی اور مالی شمولیت میں اضافہ ممکن ہے، جبکہ ملکی قانونی اور ضابطہ جاتی فریم ورک کا مکمل احترام بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان حکومت ذمہ دارانہ انداز میں جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں خودمختار اور حقیقی اثاثوں کے لیے ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق بلاک چین انفرا اسٹرکچر کی جانچ بھی شامل ہے۔
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر ان ٹیکنالوجیز کو دانشمندی سے استعمال کیا جائے تو یہ کیپٹل مارکیٹ کو گہرا کرنے، بین الاقوامی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے اور پائیدار معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے وفد کی دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے معتبر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ فعال رابطے میں ہے، انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مستقبل میں کسی بھی تعاون کی بنیاد قومی ترجیحات، شفافیت اور متعلقہ قوانین و پالیسیز ہوں گی۔
وفد میں مینیجنگ ڈائریکٹر، ڈاماک گروپ اور فاؤنڈر و سی ای او، پرائپکو امیرہ حسین سجوانی، چیف کمرشل آفیسر، ون ہومز، چیف آف اسٹاف الپ اوزین الپ اور جنرل منیجر ٹوکنائزیشن، پرائپکو جوزف ال عام بھی شامل تھے۔
