’شک کی بنیاد پر کسی کو بھی 10 دن تک قید رکھا جا سکتا ہے‘، افغان طالبان سربراہ کا نیا حکم

0

کابل: افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ایک نیا فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت مشتبہ افراد کو حراست میں رکھنے کی مدت میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نئے حکم کے مطابق عدالتی حکم کے بغیر کسی زیرِ حراست شخص کی رہائی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق، اس نئی ہدایت کے تحت کسی بھی مشتبہ فرد کو زیادہ سے زیادہ 10 دن تک حراست میں رکھا جا سکے گا، جبکہ اس سے قبل یہ مدت صرف 72 گھنٹے تھی۔ فرمان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ “عدالت کے حکم کے بغیر کسی زیرِ حراست شخص کو رہا نہیں کیا جا سکتا۔”

قبل ازیں پولیس اور استغاثہ کے پاس یہ اختیار تھا کہ اگر کسی مقدمے میں شواہد ناکافی ہوں تو مشتبہ فرد کو رہا کیا جا سکتا تھا، یا 15 دن کے اندر استغاثہ اس شخص کی رہائی کا حکم دے سکتا تھا۔ یہ طریقہ کار سابق افغان حکومت کے پینل کوڈ کی شق 88 میں درج تھا، جس کے تحت قانون کے مطابق حراست ضروری نہ ہونے پر مشتبہ شخص کو فوری طور پر رہا کیا جانا تھا۔

تاہم طالبان کے زیرِ انتظام وزارتِ انصاف کی ویب سائٹ پر شائع معلومات کے مطابق سابقہ پینل کوڈ کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، اور اب مشتبہ افراد کو عدالتی حکم کے بغیر 10 دن تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

یہ اقدام انسانی حقوق کے عالمی حلقوں میں شدید تشویش کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے عدالتی نگرانی اور قانونی تحفظات پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.