امریکہ کا وینزویلا پر بڑا حملہ: صدر مادورو اہلیہ سمیت گرفتار، امریکی عدالت میں فرد جرم بھی عائد
واشنگٹن :امریکی فوج نے وینزویلا کے مختلف شہروں پر حملے کیے ہیں، اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے، جبکہ امریکی عدالت نے ان پر فرد جرم بھی عائد کردی ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق دارالحکومت کاراکس میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور شہر کے کئی علاقوں میں طیاروں کی نچلی پروازیں دیکھی گئی ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کی گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کاراکس میں کم از کم 7 دھماکے ہوئے جبکہ دیگر متاثرہ ریاستوں میں میرانڈا، آراگوا اور لاگویرا شامل ہیں۔ امریکی حملوں کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا بتایا جا رہا ہے۔
وینزویلا حکومت نے حملوں کے بعد شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ان کے وسائل حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا اور وہ امریکی فوجی جارحیت کو مسترد کرتے ہیں۔
کولمبیا کے صدر نے کہاکہ کاراکس پر میزائل فائر کیے جا رہے ہیں اور انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا کے صدر کو امریکی فوج کے خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے حراست میں لیا۔امریکی اٹارنی جنرل نے 7 اگست 2025 کو مادورو کی گرفتاری پر 50 ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔
