بلوچستان میں ضلعی انتظامیہ کو پولیس اختیارات دینے پر شدید تنازع، حکومت اور بار کونسل آمنے سامنے
کوئٹہ: بلوچستان میں کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر ضلعی انتظامی افسران کو جسٹس آف پیس کے اختیارات دینے کے حکومتی فیصلے نے صوبے میں ایک سنگین قانونی اور آئینی تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ جہاں صوبائی حکومت اس اقدام کو عوام کو فوری انصاف کی فراہمی قرار دے رہی ہے، وہیں بلوچستان بار کونسل نے اسے عدلیہ کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور صوبہ بھر میں عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی کمشنرز کو قانون کے تحت ایکس آفیشو جسٹس آف دی پیس کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے کا مقصد عوامی شکایات پر بروقت کارروائی، ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کا خاتمہ اور پولیس کے غیر قانونی رویوں سے شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
ضابطہ فوجداری کی دفعات 22 اے اور 22 بی کے تحت ڈپٹی کمشنرز پولیس کے انتظامی امور پر نگرانی کا کردار ادا کر سکیں گے۔ ان اختیارات کے تحت وہ قابلِ دست اندازی جرم کی صورت میں ایف آئی آر کے اندراج کے احکامات جاری کر سکتے ہیں، پولیس کی جانب سے غیر ضروری تاخیر یا انکار پر قانونی ہدایات دے سکتے ہیں اور شہریوں کو مبینہ پولیس زیادتی یا ہراسانی سے تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم حکومتی سطح پر یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ انتظامی افسران کو نہ تو مکمل عدالتی اختیارات دیے گئے ہیں اور نہ ہی پولیس کے عملی اختیارات منتقل کیے گئے ہیں۔
ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اختیارات صرف عوامی شکایات کو پولیس تک مؤثر انداز میں پہنچانے اور ایف آئی آر کے اندراج کے لیے ہدایات دینے تک محدود ہیں۔ ان کے مطابق نہ کسی قسم کی عدالتی کارروائی ہوگی، نہ گرفتاری عمل میں لائی جائے گی اور نہ ہی انتظامی افسران تفتیشی عمل میں براہِ راست مداخلت کریں گے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حکومت کے اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بار کونسل کے وائس چیئرمین رحمت اللہ بڑیچ، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی راجب خان بلیدی ایڈووکیٹ اور ممبر ایگزیکٹو کمیٹی امان اللہ خان کاکڑ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ دفعات 22 اے اور 22 بی کے اختیارات ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز سے لے کر ایگزیکٹو افسران کو دینا عدلیہ کی خودمختاری پر کاری ضرب ہے۔
بار رہنماؤں کے مطابق یہ فیصلہ انتظامیہ کو عدالتی اختیارات سونپنے کے مترادف ہے، جس کے نتیجے میں پولیس دو متوازی اتھارٹیز، یعنی عدلیہ اور انتظامیہ، کے احکامات کی پابند ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال انتظامی انتشار اور آئینی تضاد کو جنم دے گی۔
بیان میں یاد دلایا گیا کہ اس سے قبل بھی عدلیہ سے اختیارات لے کر انتظامیہ کو دینے کی کوشش کی گئی تھی، جسے بلوچستان ہائیکورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے *کامران ملائیل بنام حکومت بلوچستان* میں کالعدم قرار دیا تھا۔ بار کونسل کے مطابق حالیہ نوٹیفکیشن بھی اسی نوعیت کا ہے اور یہ آئین میں درج ’’اختیارات کی علیحدگی‘‘ کے بنیادی اصول کے منافی ہے۔
بار رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جسٹس آف پیس کا ادارہ شہریوں کو پولیس کی زیادتی یا کوتاہی کے خلاف ایک غیر جانبدار عدالتی فورم فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر انتظامی افسران چونکہ حکومت وقت کے نمائندے ہوتے ہیں اس لیے ان سے غیر جانبدار عدالتی کردار کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ریاستی انصاف کو انتظامی خواہشات کے تابع کرنے کے مترادف ہے۔
اسی احتجاج کے تسلسل میں بلوچستان بار کونسل نے اعلان کیا ہے کہ 3 جنوری بروز ہفتہ صوبہ بھر میں عدالتی کارروائیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا اور اس فیصلے کے خلاف ہر ممکن قانونی اور آئینی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ عوامی سہولت اور فوری انصاف کے لیے کیے گئے اس اقدام پر تمام تحفظات دور کرنے کے لیے مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ تاہم موجودہ صورتحال میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا حکومت اس تنازع کو سنبھال پائے گی یا یہ معاملہ صوبے میں ایک بڑے آئینی بحران کی شکل اختیار کر لے گا۔
