پاکستان میں کامیڈی اور ڈرامہ انڈسٹری کا زوال، بشریٰ انصاری بیہودگی پر ہنسنے کے رجحان پر رنجیدہ

0

کراچی: اداکارہ، گلوکارہ اور ڈرامہ نگار بشریٰ انصاری نے حال ہی میں ایک سیشن میں اپنی زندگی، کام اور پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے حالات پر کھل کر گفتگو کی۔

بشریٰ انصاری نے بتایا کہ وہ کراچی میں پیدا ہوئیں لیکن لاہور میں پرورش پائیں۔ ان کے والد احمد بشیر ایک صحافی اور فعال کارکن تھے، جنہیں سچ بولنے کی وجہ سے اکثر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ بشریٰ نے بچپن میں موسیقی شروع کی، اگرچہ ان کے والد کو یہ پسند نہیں تھا۔

اداکارہ نے کہا کہ وہ اپنے اسٹار ہونے کے باوجود ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں توازن قائم رکھتی ہیں، بیٹیوں کی پرورش اور اپنے کام دونوں کو برابر اہمیت دی۔ انہوں نے 60 سال کی عمر میں اپنے دوسرے شوہر اقبال حسین سے شادی کی اور دونوں کے درمیان باہمی احترام کی بنیاد پر مضبوط رشتہ قائم ہے۔

اپنے کیریئر کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے بشریٰ انصاری نے کہا کہ وہ فرخ قیصر کے ساتھ بطور پپیٹیر کام کرتی تھیں، بعد میں مونی اختر اور انور مقصود کے ساتھ مزاحیہ ڈراموں میں کام کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مزاح کے معیار میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور آج کل لوگ اکثر بیہودگی پر ہنسنے لگے ہیں، جبکہ ان کا مزاح سادہ، صاف اور بامعنی ہوتا تھا۔

ڈرامہ انڈسٹری کے موجودہ حالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پروڈکشن ہاؤسز صرف منافع بخش کہانیاں بناتے ہیں، جس کی وجہ سے نئے اور تجرباتی ڈرامے کم دکھائی دیتے ہیں۔ بشریٰ انصاری نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ دور میں عمر رسیدہ خواتین کے لیے مضبوط کردار کم لکھے جا رہے ہیں، جبکہ بھارت میں عمر رسیدہ اداکاروں کے لیے اب بھی دلچسپ اور مضبوط کردار دستیاب ہیں۔

ان کے مطابق، پاکستان میں کامیڈی اور ڈرامہ دونوں میں معیار کی کمی ایک حقیقی تشویش کا باعث ہے اور اس رجحان کے خلاف انڈسٹری میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.