طالبان مخالف رہنماؤں پر ایران میں ٹارگٹڈ حملے اور سرحد پار کارروائیوں میں اضافہ
کابل :طالبان مخالف افغان اپوزیشن لیڈرز کا کہنا ہے کہ چند روز قبل سابق افغان جنرل اکرام الدین سری اور ان کے ساتھی کمانڈر الماس کوہستانی کو تہران میں مسلح افراد نے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ طالبان کی سیاسی اور عسکری مخالفین کے خلاف کارروائیوں میں ایک بڑا اضافہ ہے، اور ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان کے باہر رہنا بھی اب محفوظ نہیں رہا۔
افغان ذرائع کے مطابق اس حملے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد طالبان کے انٹیلیجنس محکموں 376 اور 091 نے کی، اور ایران کے اسلامی انقلاب گارڈ کور (IRGC) سے روابط کے ساتھ اس پر عمل کیا گیا۔
افغان ذرائع کے مطابق 4 طالبان ایجنٹ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل افغانستان کی سرحد سے ایران داخل ہوئے، وہاں نگرانی کی، منصوبہ بندی مکمل کی اور حملہ کر کے فوری طور پر واپس افغانستان آ گئے۔ اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ طالبان کی انٹیلی جنس افغانستان کی سرحد کے باہر بھی مؤثر طریقے سے کام کر سکتی ہے اور اس کے لیے میزبان ممالک میں نیٹ ورک استعمال کر رہی ہے۔
افغان اپوزیشن لیڈرز کہنا ہے کہ حملے سے چند دن پہلے جنرل سری نے میڈیا میں واضح طور پر کہا تھا کہ ان کا نام اور دیگر سابق فوجی اہلکاروں کے نام طالبان کی ہدفی فہرست میں شامل ہیں۔ انہوں نے ایرانی حکام سے تحفظ کی درخواست بھی کی، مگر کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔
افغان اپوزیشن میڈیا کے مطابق کے مطابق یہ قتل طالبان کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے: مخالفین اور سیاسی رہنماؤں کو کسی بھی سرحد کے پار ہدف بنانا۔ تہران میں اعلیٰ سطح کے فوجی رہنماؤں کو نشانہ بنانا اس بات کا اشارہ ہے کہ طالبان اپنی رسائی دکھانا چاہتے ہیں اور مخالفین کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔

حملے کے بعد ایران اور طالبان نے عوامی رائے کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، تاکہ طالبان کی کارروائیوں پر سوالات نہ اٹھیں اور کسی بھی ممکنہ کردار سے ایران کو بچایا جا سکے۔ یہ اطلاعات کا کنٹرول افغان مخالفین کے لیے مزید خطرہ پیدا کرتا ہے، کیونکہ انہیں حقیقی خطرے کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔
افغان اپوزیشن میڈیا کے مطابق تہران اور طالبان کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔ طالبان کے سفارت خانے اور مشہد کے قونصل خانے نے بھی اس ہدفی قتل میں کردار ادا کیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران کی سرزمین طالبان کے لیے کارروائیوں کی اجازت دینے یا معاونت کرنے کا ماحول فراہم کر رہی ہے۔
