اسرائیل کا اعلیٰ ترین اعزاز صدر ٹرمپ کو دینے کا اعلان
واشنگٹن :اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہونے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل پرائز دینے کا اعلان کیا ہے، جو ریاستِ اسرائیل کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات پیر کے روز فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ مار-اے-لاگو میں ہوئی، جہاں وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے متعدد روایات توڑیں، جس پر ابتدا میں لوگ حیران ہوئے، مگر بعد میں انہیں احساس ہوا کہ شاید وہ درست تھے۔
’اسی لیے ہم نے بھی ایک روایت توڑنے یا نئی روایت قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور وہ یہ کہ اسرائیل پرائز دیا جائے، جو تقریباً 80 سالہ تاریخ میں کبھی کسی غیر اسرائیلی کو نہیں دیا گیا اور اس سال یہ اعزاز صدر ٹرمپ کو دیا جائے گا۔‘انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز صدر ٹرمپ کو اسرائیل اور یہودی عوام کے لیے ان کی ’غیر معمولی خدمات‘ کے اعتراف میں دیا جا رہا ہے۔
’یہ فیصلہ اسرائیلی عوام کے تمام طبقات کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے، وہ اسرائیل کی مدد اور دہشت گردی کے خلاف ہماری مشترکہ جدوجہد میں آپ کے کردار کو سراہتے ہیں۔‘
اس انعام کے انتظامی امور پر مامور اسرائیل کے وزیرِ تعلیم یوآف کیش نے نیتن یاہو سے ملاقات کے آغاز میں فون کال کے ذریعے صدر ٹرمپ کو اس اعزاز کے بارے میں آگاہ کیا۔
“We decided to break a convention, or create a new one, and that is to award the Israel Prize, which in almost our 80 years we’ve never awarded it to a non-Israeli, and we are going to award it this year to President Trump.” — Israeli Prime Minister Netanyahu pic.twitter.com/Z4S0SHkv0k
— Department of State (@StateDept) December 30, 2025
یوآف کیش نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ریاستِ اسرائیل کی تاریخ میں پہلی بار: اسرائیل پرائز صدر ٹرمپ کو دیا جائے گا۔انہوں نے اسے ’ریاستِ اسرائیل کا سب سے باوقار اعزاز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ 2026 کے لیے ’یہودی عوام کے لیے غیر معمولی خدمات‘ کے زمرے میں دیا جا رہا ہے۔ان کے مطابق، یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جو صدر ٹرمپ کی غیر معمولی خدمات اور اسرائیل سمیت دنیا بھر میں یہودی عوام پر ان کے دیرپا اثرات کا اعتراف ہے۔
صدر ٹرمپ کو یہ اعزاز اس کے فوراً بعد ملا ہے جب انہیں 2026 فٹبال ورلڈ کپ کی قرعہ اندازی کے دوران پہلی بار دیا جانے والا فیفا پیس پرائز بھی دیا گیا تھا۔فیفا پیس پرائز کے قیام کا اعلان گزشتہ ماہ کیا گیا تھا، جو ناروے کی نوبل کمیٹی کی جانب سے نوبل امن انعام کے اعلان کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا تھا۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ انعام انہیں ملنا چاہیے تھا، تاہم یہ وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کو دیا گیا۔
