خیبر پختونخوا بدترین گورننس اور دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، ایمل ولی
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے صوبے میں بدترین گورننس، بدامنی اور دہشتگردی کی نئی لہر کا ذمہ دار موجودہ صوبائی حکومت کو قرار دیا ہے۔
ایمل ولی خان نے یہ بیان اپنے آفیشل ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا ایک بدقسمت صوبہ بن چکا ہے جو گزشتہ 12 سال سے ایک کمپرومائزڈ صورتحال سے گزر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ “صوبہ ميں دہشتگردی، بدامنی اور طالبائزیشن ہے، مگر جس شخص کو صوبے کا وزیرِاعلیٰ منتخب کیا گیا ہے، اس کو عمران خان کی رہائی کے سوا کسی چیز کی فکر نہیں۔”
ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ “خیبر پختونخوا میں حکومت کہیں نظر نہیں آرہی۔ کچھ لوگ عشقِ قوم والے ہوتے ہیں جنہیں اپنی زمین اور قوم سے محبت ہوتی ہے، کچھ عشقِ ریاست والے ہوتے ہیں جنہیں ریاست اور اداروں سے محبت ہوتی ہے، مگر اب ایک نئی نسل آگئی ہے جس کو عشقِ عمران ہے، ان کو نہ قوم کی پروا ہے اور نہ ملک کی۔”
اے این پی سربراہ کے اس بیان کے بعد صوبے کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر تناؤ پیدا ہوگیا ہے اور سیاسی مبصرین کے مطابق ایمل ولی خان کی یہ تنقید حکومتی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی عوامی بےچینی کی عکاسی کرتی ہے۔
