حکومت اب آئی پی پیز سے بجلی نہیں خریدے گی، توانائی کے شعبے میں بڑی اصلاحات کا اعلان

0

اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ آئی پی پیز (نجی توانائی منصوبوں) سے متعلق ٹاسک فورس نے نمایاں کام کیا ہے اور اب حکومت نجی اداروں سے بجلی نہیں خریدے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ توانائی نے بتایا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہے تاکہ پائیدار اور مستحکم نظام تشکیل دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی موقع ملا، عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔

اویس لغاری نے بتایا کہ توانائی کے شعبے میں درپیش تکنیکی مسائل کے حل کے ذریعے اربوں روپے کی بچت ممکن بنائی گئی، جب کہ گزشتہ 18 ماہ میں بجلی کی قیمت میں مجموعی طور پر ساڑھے 10 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی پی پیز سے متعلق ٹاسک فورس نے شاندار پیش رفت کی ہے اور اب حکومت بجلی کی خریداری کے بجائے اس شعبے کو زیادہ مسابقتی اور خودمختار بنانے کی پالیسی اپنا رہی ہے۔ گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے ایک جامع اور مؤثر منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت 1200 ارب روپے کے قرض معاہدے پر عمل درآمد جاری ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران گردشی قرضے میں 700 ارب روپے کی نمایاں کمی لائی گئی ہے، جو کہ ایک بڑی مالی کامیابی ہے۔وزیرِ توانائی نے کہا کہ "ہماری توجہ توانائی کے نظام میں شفافیت، کارکردگی اور پائیداری پر ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں آٹومیٹک میٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت صارفین کو پری پیڈ میٹرز کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ بلنگ کے مسائل اور بجلی چوری میں کمی لائی جا سکے۔

اویس لغاری نے کہا کہ حکومت کا ہدف توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنا، گردشی قرضے کا بوجھ ختم کرنا اور صارفین کے لیے قابلِ برداشت بجلی فراہم کرنا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.