مذاکرات ناکام ہوئے تو افغانستان کے ساتھ ہماری ‘کھلی جنگ’ ہے :وزیر دفاع خواجہ آٓصف

0

سیالکوٹ :وزیرِ دفاع پاکستان خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر افغانستان کے ساتھ جاری مذاکرات سے مسائل حل نہ ہوئے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کھلی جنگ کا راستہ رہ جائے گا۔ سیالکوٹ میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کے دوران خواجہ آصف نے سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری افواج اور پولیس اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہی ہیں، اسی لیے عوام کو سکون اور تحفظ مل رہا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا، "ہم اور آپ اس لیے چین سے سوتے ہیں کہ آپ کے محافظ جاگ رہے ہوتے ہیں۔” انہوں نے افغانستان کے حوالے سے اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ لوگ جن سے دوحہ میں بات ہو رہی تھی، وہ درحقیقت پاکستان میں جوان ہوئے اور اس مہمان نوازی کے باوجود افغانستان کا رویہ مایوس کن ہے۔ میرے نزدیک افغانستان بعض عناصر کے ذریعے بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے۔

وزیرِ دفاع نے افغان مہاجرین کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ "افغان مہاجرین نے روزگار اور کاروبار پر قبضہ کر رکھا ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مقصد اخوت اور ہمسائیگی کی بنیاد پر تعلقات رکھنا ہے، مگر اگر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو عسکری آپشن ہمیشہ موجود رہے گا۔

خواجہ آصف نے یہ بات اس پس منظر میں کی جب پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ترکی کے شہر استنبول میں جاری ہے۔ ان مذاکرات میں دوحہ میں طے پانے والی نکات پر عمل درآمد اور سرحدی سیز فائر کے اطلاق کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے عارضی سیز فائر اور ایک دوسرے کی سرحدوں کے احترام پر زور دیا تھا۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ پچھلے چار، پانچ روز سے کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا، تاہم اگر مذاکرات مؤثر ثابت نہ ہوئے تو صورتِ حال بدل سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت و مسلح افواج کی سرحدی اور داخلی سکیورٹی کو یقینی بنانے کی کاوشوں کی اہمیت پر زور دیا۔

سکیورٹی  ماہرین کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف کے بیانات سے ایک طرف مضبوط رویہ ظاہر ہوتا ہے تو دوسری طرف یہ سیاسی دباؤ اور مذاکراتی بیٹنگ کا حصہ بھی لگتا ہے — تاکہ افغان حکومت یا ثالث فریقین پر فوری پیش رفت کے لیے دباؤ بڑھ سکے۔

پس منظر

قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے دورِ مذاکرات دوحہ میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں سیز فائر پر اتفاق ہوا تھا۔ مگر سرحدی کشیدگی اور بار بار ہونے والی دہشتگردی کی وارداتوں نے تعلقات میں کھچاؤ برقرار رکھا ہوا ہے، جس کی روشنی میں استنبول دور میں سیکیورٹی میکانزم اور اطلاعاتی تبادلے کی تفصیلات پر بات کی جا رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.