وزیر دفاع نے افغانستان سے سیزفائر برقرار رکھنے کی شرط بتادی
لاہور:وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کا انحصار اس بات پر ہے کہ حاکم طالبان انتظامیہ افغانستان میں موجود ایسے شدت پسند عناصر کو روکے جو سرحد پار کر کے پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک نے دوحہ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، مگر اس معاہدے کی بنیاد یہی شرط ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے کسی بھی قسم کی دراندازی نہ ہو۔ اگر افغانستان کی طرف سے کچھ بھی آئے گا تو وہ معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ سب کچھ اسی شق پر منحصر ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ تیز رفتار سرحدی جھڑپوں اور فضائی کارروائیوں کے بعد یہ معاہدہ طے پایا، جو پچھلے برسوں میں طالبان کے اقتدار کے بعد ہونے والی بدترین کشیدگی ہے، وزیر دفاع نے کہا کہ تحریکِ طالبانِ پاکستان سمیت مختلف جماعتیں افغانستان سے کارروائیاں کر رہی ہیں، اور اسلام آباد کا مطالبہ تھا کہ کابل انہیں پناہ گاہیں نہ دے۔
وزارتِ دفاع افغانستان اور طالبان حکومت کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے رائے نہیں موصول ہوئی۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ دوحا مذاکرات میں فیصلہ ہوا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف دشمنانہ کارروائیاں نہیں کریں گے اور کسی بھی ایسے گروپ کی حمایت نہیں کی جائے گی جو پاکستان کے خلاف سرگرم ہو،تاہم ان بیانات کو مشترکہ اعلامیہ قرار نہیں دیا گیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ کابل ‘نو گو ایریا’ نہیں ہے اور جہاں بھی شدت پسند ہوں، پاکستانی افواج کارروائی کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جواب میں فضائی کارروائیاں بھی کی ہیں اور جہاں دشمن ہیں وہاں انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔
اگلے مذاکراتی مرحلے کا انعقاد 25 اکتوبر کو استنبول میں متوقع ہے جس کا مقصد معاہدے کے نفاذ اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار تیار کرنا ہے۔ میزبان ممالک قطر اور ترکی نے کہا ہے کہ فالو اپ اجلاس معاہدے کی پائیداری اور اس کے نفاذ کی جانچ پڑتال کے لیے ضروری ہیں۔
معاہدے کے تحت واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے کسی قسم کی دراندازی نہیں ہو گی اور اگر یہ شرط برقرار رہی تو جنگ بندی برقرار رکھی جا سکے گی۔
