شہباز شریف کی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات، بھارتی شہری اپنے وزیراعظم مودی پر پھٹ پڑے

0

وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی۔ تقریباً ایک گھنٹہ 20 منٹ تک  جاری رہنے والی اس ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ موجود تھے۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی اور اقتصادی تعاون سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

اس اعلیٰ سطحی ملاقات پر بھارت میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ سوشل میڈیا پر متعدد بھارتی شہریوں نے اپنے وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید

کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کے باعث پاکستان بین الاقوامی سطح پر زیادہ مضبوط مؤقف کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔

ایک بھارتی صارف نے لکھا کہ مودی کی غلطیوں نے وہ کر دکھایا جو پاکستان کی کوئی حکمتِ عملی نہ کر سکی۔ انہوں نے عاصم منیر کو پاکستان کے سابق تمام آرمی چیفس سے زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔صارف کا مزید کہنا تھا کہ یہ کوئی ’شاطر سفارت کاری‘ نہیں، بلکہ کھلی حماقت ہے جو بھارت کو عالمی سطح پر کمزور اور ہمارے حریفوں کو مسلسل مضبوط کر رہی ہے۔

اشوک سوائن لکھتے ہیں کہ نہ صرف پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف بلکہ آرمی چیف عاصم منیر کو بھی واشنگٹن ڈی سی میں صدر ٹرمپ سے ملاقات سے قبل ریڈ کارپٹ استقبال اور شاندار خیرمقدم دیا گیا۔ مودی کی بیوقوفی نے عاصم منیر کو پاکستان کے تمام سابق آرمی چیفس سے زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔

ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے وائٹ ہاؤس میں 90 منٹ طویل بند کمرہ ملاقات کی، جس کی تفصیلات تاحال منظرِ عام پر نہیں آئیں۔ صدر ٹرمپ نے ملاقات کے بعد دونوں پاکستانی رہنماؤں کو ’بہت زبردست شخصیات‘ قرار دیا۔

دوسری جانب ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان، جو بھارت کے بارے میں سخت مؤقف رکھتے ہیں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر کو اٹھایا۔ اسی تناظر میں صدر ٹرمپ نے ان سے بھی دو گھنٹے طویل ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد امریکا نے ترکی پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا اور ترکی کو ایف-35 پروگرام میں دوبارہ شامل کر لیا گیا۔ ملاقات میں دفاع، تجارت اور توانائی کے شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

یہ تمام سفارتی پیش رفت بھارت کے لیے باعثِ تشویش ہیں اور جیوپولیٹیکل منظرنامے میں کئی اہم تبدیلیاں بھارت کے مفادات کے خلاف جا رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.