آزاد کشمیرسپریم کورٹ کی گولڈن جوبلی
آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کی گولڈن جوبلی کی تین روزہ سر گرمیاں کل 12 ستمبر اس وقت انہتا کو پہنچ گئیں جب چیف جسٹس پاکستان جناب یحی آفریدی صاحب اپنے دس ساتھی ججوں کے ہمراہ مظفر آباد آزاد کشمیر پہنچے جہاں ان کا شایان استقبال کیا گیا -ان کے علاوہ پشا ور، اسلام آبا اور بلتستان کے چیف جسٹس بھی ان کے ہمراہ تھے –
گولڈن جوبلی کی تقریبات کی انتہا 23 ستمبر اس وقت ہوی جب پاکستان بھر اور آزاد کشمیر کے جج صاحبان اور وکلاء حضرات کی پرل کا نیننٹل ہوٹل کے کانفرنس روم میں موقعہ کی مناسبت سے فگر انگیز تقاریر ہو ئیں اور مقالے پڑھے گئے –
اس کا نفرنس کے اس بڑے پیمانے پر ملک بھر کی قانونی دنیا کے عظیم اور با اختیار لوگوں کو جمع کرنے کا کریڈت بلا شبہ چیف جسٹس آزاد کشمیرراجہ سعید اکرم کو جاتا ہے جن کے زاتی تعلقات کی بناء پر ملک بھر کے ججز کو مظفر آباد جیسے محدود شہر میں اکٹھا کیا جس میں ، بلخصوص چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ پاکستان کے ججز کا مظفر آباد آنا ممکن ہوا — یہ سب کچھ رو ٹین میں نہیں بلکہ راجہ سعید اکرم کی زاتی سعئ کا کرشمہ ہے – اس تقریب کو اس کی اہمیت کے پس منظر میں کا میاب بنانا ان کے ساتھی ججز جناب خواجہ محمد نسیم اور جناب راجہ رضا علی خان صاحبان کی انتھک کوششیں شامل تھیں جن کی شبانہ روز محنت نتیجہ خیز ثابت ہوئ – سپریم کورٹ کے عملہ اور حکومتی مشینری کی محنت ، لگن اور کوشش نے اس میں ہر لحاظ
سے چار چا لگائے میں اس پر ایک مکمل رپورٹ آئندہ چند دنوں نظر احباب کروں گا –
اس تقریب میں میری انگریزی تقریر کا اردو ترجمہ نظر احباب ہے-
یادگاری خطاب
سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کی گولڈن جوبلی
13 ستمبر 2025
جسٹس (ر) سید منظور حسین گیلانی، سابق قائم مقام چیف جسٹس
آغازِ کلام
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
معزز مہمانِ خصوصی، جج صاحبان، وکلاء کرام، معزز حاضرین!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔
میں دل کی گہرائیوں سے چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر، ان کے رفقاء، عدالت کے افسران و عملہ اور اس تقریب کے منتظمین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ یہ تقریب آدھی صدی کی اُس مسافت کی یاد ہے جس نے قانون، انصاف اور عوامی خدمت کی روشن روایت قائم رکھی۔
معرکۂ حق و ثبات
یہ جوبلی اصل میں اُس تاخیر کا صدقہ ہے جو بھارت کی بلا جواز جارحیت اور پاکستان کی “معرکۂ حق” میں فتح کے سبب ہوئی۔ اس جنگ نے پاکستان کی ساکھ کو بلند اور کشمیر کے مسئلے کو عالمی ایجنڈے پر نمایاں کر دیا۔
شہادتِ تاریخ
میں محض ایک سابق قائم مقام چیف جسٹس نہیں بلکہ پینتالیس برسوں کی وکالت اور عدالتی سفر کا گواہ ہوں، جو آزاد کشمیر اور سرینگر دونوں میں طے ہوا۔ یہ لمحہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ اپنی بنیادوں اور تاریخ کو یاد رکھی-
کشمیر کی تاریخ — ایک اجمالی خاکہ
کشمیر کی ریاست 500 قبل مسیح سے ایک سیاسی و قانونی اکائی ہے۔ 1320 میں رِنچن شاہ نے اسلام قبول کیا اور کشمیری عوام کی رضا سے مسلم دور کا آغاز ہوا۔ 1586 کے بعد کشمیر پر ایک کے بعد ایک غیر کشمیری قوت قابض رہی—مغل، افغان، سکھ اور پھر انگریز۔
1846 کی معاہدۂ امرتسر نے کشمیر کو گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کیا اور یوں ایک ایسی ریاست وجود میں آئی جو جغرافیائی طور پر تو متحد تھی مگر سیاسی طور پر زبردستی جوڑی گئی۔
آزاد کشمیر کی پیدائش
15 اگست 1947 کے بعد مہاراجہ کی قانونی حیثیت ختم ہو گئی اور عوامی طاقت نے 24 اکتوبر کو آزاد حکومت قائم کر دی۔ 1949 کا معاہدۂ کراچی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو عملی طور پر پاکستان کے زیرِانتظام لایا۔
یہ حقیقت ہے کہ بھارت کا الحاق کبھی بھی حتمی طور پر تسلیم نہیں ہوا بلکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں نے بار بار رائے شماری کو لازم قرار دیا۔
بھارتی آئینی چالیں
بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35A کے ذریعے وقتی خودمختاری دی مگر صدارتی احکامات سے اسے مسلسل کھوکھلا کرتا رہا۔ بالآخر 5 اگست 2019 کو اس کا خاتمہ کر کے کشمیریوں کی شناخت چھین لی۔
آئینی خلا اور محرومیاں
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے دل کے قریب مگر آئین سے دور ہیں۔ یہ پاکستان کا حصہ ہیں مگر آئینی اور نمائندہ حقوق سے محروم۔
جیسا کہ کہا گیا ہے:
“جب کچھ نہ کرنا ہو تو بہانے بہت ہوتے ہیں”۔
آزاد کشمیر کی عدلیہ کا سفر
1939 کے “بورڈ آف جوڈیشل ایڈوائزرز” سے آغاز ہوا، 1974 میں جو ڈیشل بورڈ بنا پھر 1975 میں سپریم کورٹ قائم ہوئی۔ اگرچہ اس کی حدود پاکستان اور بھارت کی عدالتوں جیسی وسیع نہیں، مگر جج صاحبان نے اجتہادی بصیرت سے خلا پُر کیا
چیلنجز اور سوالات
آج بھی بنیادی سوال یہ ہے:
کیا آزاد کشمیر کو محض ایک عبوری حیثیت میں رکھا جائے یا اسے آئینی طور پر پاکستان کا حصہ مانا جائے؟جب تک جواب نہیں ملتا، کشمیری عوام خود کو شہری نہیں بلکہ محض رعایا سمجھیں گے۔
عملی تقاضا
یہ جوبلی محض جشن نہیں بلکہ دعوتِ فکر ہے:
- آئینی وضاحت ہو
- جمہوری خلا پُر کیا جائے
- اور انصاف کی ایسی روشنی جگائی جائے جو تاریخ میں امر ہو۔
جیسا کہا گیا ہے:“قاضی وہ ہے جو اختلاف میں بھی اجتہاد کی ہمت رکھے”۔
اختتامیہ
میری دعا ہے کہ آنے والے جج صاحبان تاریخ کے بہترین قاضیوں کی طرح حق گوئی اور جراتِ اختلاف کی روایت قائم رکھیں۔
پاکستان زندہ باد۔
