آنے والی صدیوں سے متعلق بابا وانگا کی چونکا دینے والی پیشگوئیاں

0

لندن :بلغاریہ کی نابینا نجومی بابا وانگا اپنی وفات (1996) کے بعد بھی عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنی رہتی ہیں۔ ان کے ماننے والوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے قدرتی آفات، عالمی سیاسی تبدیلیوں اور حتیٰ کہ انسانیت کے انجام تک کی پیشگوئیاں کیں۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ بابا وانگا نے اپنی پیشگوئیاں خود تحریری صورت میں محفوظ نہیں کیں، بلکہ ان سے منسوب زیادہ تر بیانات ان کے قریبی افراد اور پیروکاروں نے بعد میں قلم بند کیے۔ حامیوں کے مطابق انہوں نے سال بہ سال 5079 تک کے واقعات کا ذکر کیا۔

دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نومبر 2026 میں انسانیت کا کسی بڑی خلائی مخلوق یا اجنبی جہاز سے سامنا ہو سکتا ہے۔ اسی سال شدید زلزلوں، موسمی شدت، قحط سالی اور آگ سے متعلق تباہ کن واقعات کی پیشگوئی بھی ان سے منسوب کی جاتی ہے۔

بابا وانگا سے منسوب دعوؤں کے مطابق 2028 تک انسان توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں سیارہ زہرہ کی جانب پیش رفت کرے گا، حالانکہ سائنسی طور پر یہ سیارہ زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔

کہا جاتا ہے کہ 2033 میں زمین کے منجمد قطبی علاقے پگھلنا شروع ہو جائیں گے جس سے سمندروں کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو جائے گی اور ساحلی علاقوں کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔

ایک اور پیشگوئی کے مطابق 2076 میں دنیا بھر میں کمیونزم دوبارہ پھیل جائے گا اور کئی ممالک اس نظام کو اختیار کریں گے۔

پیروکاروں کا دعویٰ ہے کہ 2130 میں انسانوں کا باقاعدہ طور پر خلائی مخلوق سے رابطہ قائم ہو جائے گا، جبکہ مستقبل میں زمین اور مریخ کے درمیان جنگ کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے، تاہم اس بارے میں کوئی تفصیل موجود نہیں۔

بابا وانگا سے منسوب آخری پیشگوئی کے مطابق 5079 میں انسانیت کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا اور زمین زندگی کے قابل نہیں رہے گی۔

ماہرین کے مطابق ان پیشگوئیوں کی کوئی سائنسی تصدیق موجود نہیں اور انہیں تاریخی یا سائنسی حقائق کے بجائے عوامی روایات اور قیاس آرائیوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم ان دعوؤں نے عالمی سطح پر تجسس اور بحث کو جنم دے رکھا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.