افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ

0

ماسکو :روسی وزارتِ خارجہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں سکیورٹی اور سیاسی صورتحال بدستور پیچیدہ ہے جبکہ مختلف دہشت گرد نیٹ ورکس سرگرم عمل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 ہزار سے 23 ہزار کے درمیان دہشت گرد جنگجو موجود ہیں، جن میں نصف سے زائد غیر ملکی عناصر شامل ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق دہشت گرد گروہوں کی یہ موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق داعش کے تقریباً 3 ہزار جبکہ ٹی ٹی پی کے 5 سے 7 ہزار جنگجو افغان سرزمین پر موجود ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان میں حملوں پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جس کے باعث پاک-افغان تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ القاعدہ، ای ٹی آئی ایم (ٹی آئی پی) اور دیگر شدت پسند گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں، جبکہ افغانستان القاعدہ کے لیے علاقائی روابط اور تربیت کا اہم مرکز بن چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے تربیتی مراکز افغان صوبوں غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور ارزگان میں موجود ہیں، جبکہ داعش خراسان نے افغانستان کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں مضبوط نیٹ ورک قائم کر رکھے ہیں۔ داعش کا طویل المدتی ہدف وسطی ایشیا تک پھیل کر نام نہاد خلافت قائم کرنا بتایا گیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ نے جنوری 2026 میں کابل کے ایک چینی ریسٹورنٹ پر ہونے والے دھماکے کو داعش کی موجودگی کا ثبوت قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں مصنوعی منشیات کی اسمگلنگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور میتھ ایمفیٹامین بیرون ملک سب سے زیادہ اسمگل ہونے والی منشیات بن چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان کی موجودہ صورتحال خطے کے امن و استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.