ایران کیخلاف مزید کارروائی نہیں ہوگی، لیکن جوہری پروگرام بحال ہوا تو سخت ایکشن کریں گے: صدر ٹرمپ کا انتباہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے اپنی جوہری سرگرمیاں بحال کیں تو امریکا کارروائی سے گریز نہیں کرے گا، تاہم فی الحال ایران کے خلاف مزید کسی فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں۔
امریکی میڈیا سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو جوہری سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرنا ہوں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ جوہری پروگرام شروع کیا تو امریکا فوری اور سخت ردعمل دے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ماضی میں امریکا کی جانب سے کی گئی کارروائی نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دیا تھا۔ ان کے مطابق اگر امریکا ایران کے ایٹمی نظام کو نشانہ نہ بناتا تو ایران دو ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا تھا۔
انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے ایران پر زور دیا کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش ترک کرے۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ امید بھی ظاہر کی کہ مستقبل میں ایران کے خلاف مزید کسی کارروائی کی نوبت نہیں آئے گی، بشرطیکہ ایران اپنی پالیسی تبدیل کرے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران میں سڑکوں پر لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا، تاہم ان کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد ایرانی حکام نے سینکڑوں افراد کو پھانسی دینے کا ارادہ ترک کر دیا۔ ان کے مطابق امریکی دباؤ کے باعث ایران کے رویے میں وقتی طور پر تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان کو خطے میں کشیدگی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی پالیسی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
