وزیرِ خزانہ کی ویزا گروپ کے صدر سے ملاقات، ڈیجیٹل ترقی کے لیے طویل المدتی شراکت داری کے عزم کا اعادہ
ڈیووس :وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ویزا کے گروپ صدر اولیور جینکن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ڈیجیٹل ادائیگیوں، مالیاتی جدت اور پاکستان کو ایک جدید ڈیجیٹل معیشت کی جانب لے جانے کے لیے تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی۔
ملاقات کے دوران دونوں جانب سے پاکستان کے بدلتے ہوئے معاشی منظرنامے اور عالمی ادائیگی نظام کے ساتھ جاری تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ویزا کے گروپ صدر نے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ویزا آئندہ برسوں میں جدت، محفوظ ادائیگی نظام اور علم کی منتقلی کے ذریعے پاکستان کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرے گا۔انہوں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب عالمی رجحان کا حوالہ دیتے ہوئے واضح پالیسی، کھلے پن اور سازگار ماحول کی اہمیت پر زور دیا۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے ویزا کی مسلسل شمولیت کا خیرمقدم کیا اور کہاکہ پالیسیوں میں تسلسل اور اصلاحات کا واضح روڈ میپ پاکستان کی معاشی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کنیکٹیویٹی، مالیاتی ڈھانچے اور ریگولیٹری فریم ورک میں بہتری کے اقدامات کر رہی ہے تاکہ جدت اور نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے کہاکہ عالمی ادائیگی نیٹ ورکس اور مقامی حل کے درمیان تعاون سے مالی شمولیت اور ڈیجیٹل نظام کے فروغ میں تیزی آئے گی۔
وزیر خزانہ نے معیشت میں شفافیت، دستاویزی عمل اور مختلف شعبوں میں ڈیجیٹلائزیشن کے لیے جاری اقدامات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان اصلاحات سے قابلِ اعتماد عالمی شراکت داروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل اور ریگولیٹری اداروں کے قیام سے حکومت کے اس عزم کی عکاسی ہوتی ہے کہ پاکستان کو ایک “ڈیجیٹل نیشن” کے طور پر آگے بڑھایا جائے، جہاں جدت کے ساتھ معاشی استحکام بھی یقینی بنایا جا سکے۔
اولیور جینکن نے کہاکہ ویزا جیسے عالمی پلیٹ فارمز سکیورٹی، مضبوط نظام اور تیزی سے حل فراہم کرنے کی صلاحیت کے ذریعے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے حکومتوں، ریگولیٹرز اور نجی شعبے کے درمیان متوازن اور صحت مند تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ویزا مالیاتی ٹیکنالوجی کے ارتقا کے ساتھ عالمی تجربات اور بہترین طریقوں کا تبادلہ جاری رکھے گا۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ سیاحت اور سرحد پار سرگرمیوں میں اضافے سے پاکستان میں بین الاقوامی ادائیگی نظام کے فروغ میں مدد ملے گی۔
