صدر کی منظوری کے بغیر آرڈیننس کیوں جاری کیا؟ پیپلز پارٹی کا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ
اسلام آباد:پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے صدر مملکت آصف زرداری کے دستخطوں کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے پر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کردیا، جبکہ آئینی معاملے پر مشاورت کے لیے بلاول بھٹو نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلزپارٹی کے ارکان نے ایوان چھوڑ سے واک آؤٹ کیا، تاہم اس دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ انہیں اس عمل سے روکتے رہے۔
نوید قمر نے کہاکہ قانون سازی اس ایوان کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن پہلی مرتبہ حکومت نے ایک ایسا آرڈیننس نافذ کر دیا جو صدر کی توثیق کے بغیر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور اس صورتحال میں وہ ایوان کا حصہ نہیں رہیں گے۔
صدر مملکت کی منظوری کے بغیر آرڈیننس جاری کئیے جا رہے ہیں،پیپلز پارٹی ایسی قانون سازی کی مخالفت کرتی ہے، پیپلز پارٹی نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا pic.twitter.com/KxzBKidUN1
— Tayyab Khan (@TayyabKhanARY) January 12, 2026
اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی کے ارکان سوشل میڈیا پر چلنے والی باتوں کو سیریس لینے کے بجائے میری بات سن لیں۔ انہوں نے واضح کیاکہ حکومت صدر کی توثیق کے بغیر آرڈیننس کو نوٹیفائی نہیں کرے گی۔
دوسری جانب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ہونے کے بعد پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا۔
