مائی کلاچی واقعہ: 4 لاشیں، 2 بچے اور 2 خواتین شامل، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کے آثار
کراچی: مائی کلاچی روڈ کے قریب پھاٹک کے نزدیک مین ہول سے ملنے والی چار لاشوں کی ایم ایل او رپورٹ روزنامہ الجریدہ نے حاصل کر لی ۔ رپورٹ کے مطابق مرنے والوں کی عمریں 10 سے 40 سال کے درمیان ہیں، جن میں دو بچے اور دو خواتین شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 10 سالہ بچے کا گلا کٹا ہوا اور چہرہ کچلا ہوا ہے، جبکہ دوسرے 15 سالہ بچے کی گردن، سر اور چہرے پر چوٹ کے نشانات ہیں۔ تیسری لاش ایک لڑکی کی ہے جس کی عمر 14 سے 16 سال کے درمیان ہے اور اس کے سر و گردن پر زخم موجود ہیں۔ چوتھی لاش 35 سے 40 سالہ خاتون کی ہے، جس کے سر، چہرے اور ہاتھوں پر چوٹ کے آثار ہیں۔
ڈی آئی جی ساوتھ اسد رضا نے بتایا کہ شناخت کے لیے نادرا سے فنگر پرنٹس لیے گئے مگر فوری شناخت ممکن نہیں ہوئی، کیمیائی تجزیے اور ڈی این اے کے لیے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم کے مطابق لگتا ہے کہ چاروں کی موت تشدد سے ہوئی ہے۔
ایس ایس پی کیماڑی امجد شیخ نے کہا کہ لاشوں کی شناخت تاحال ممکن نہیں اور کراچی بھر میں بیک وقت 4 افراد کے لاپتا ہونے کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی نوعیت آنر کلنگ کی ممکنہ شکل اختیار کرتی ہے اور لاشوں کی موجودگی کی اطلاع کچرہ چننے والے نے دی تھی۔
مقدمہ سرکار کی مدعیت میں ڈاکس تھانے میں درج کیا جا رہا ہے جبکہ شناخت اور مزید شواہد کے بعد قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔
