مودی کے آمریت پسندانہ دور میں بھارتی صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں، آزادی اظہارِ رائے محدود

0

نئی دہلی:بھارت میں نام نہاد جمہوریت کے دعویدار ملک میں صحافیوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آزادی اظہارِ رائے شدید خطرے میں ہے۔

بھارتی جریدے "دی وائر” کی رپورٹ کے مطابق نریندر مودی کی حکومت نے آزادی اظہارِ رائے پر مکمل جبر کا ماحول قائم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں صحافیوں کو قتل، گرفتاریاں، تشدد اور جبری گمشدگیوں کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2025ء میں تقریباً14,800 صحافیوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ تشدد کے واقعات میں 8 صحافی اور ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر قتل ہو گئے اور 117 افراد کو صرف آزادی اظہارِ رائے کے جرم میں قید کر دیا گیا۔ آزادی اظہارِ رائے کی خلاف ورزیوں میں سب سے زیادہ، یعنی 108 کیسزمودی کی آبائی ریاست گجرات میں ریکارڈ کیے گئے۔

دی وائر کے مطابق حکومت نے قانونی کارروائی کی آڑ میں 208 افراد کو بلیک میل بھی کیا، جبکہ انتہا پسندانہ حکومتی پالیسیوں کے تحت ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔ تنقید کرنے والے 8,000 سے زائد ایکس اکاؤنٹس بند کر دیے گئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 2023ء میں گجرات کے فسادات پر دستاویزی فلم نشر کرنے پر بی بی سی کے دفتر پر انکم ٹیکس کے نام پر چھاپہ بھی مارا گیا۔ دی وائر نے واضح کیا کہ گودی میڈیا کے پروپیگینڈا کے علاوہ اگر کوئی صحافی یا تجزیہ کار مودی حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کو بے نقاب کرتا ہے تو اسے جبر اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، معرکہ حق میں ہزیمت کے بعد بھی مودی حکومت نے حقائق بیان کرنے والے صحافیوں اور تجزیہ کاروں پر ٹی وی چینلز کے دروازے بند کر دیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں حکومت پر تنقید اور سچ بولنا **جان گنوانے کے مترادف** ہو گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.