سمندری خطرات سے نمٹنے کیلئے علاقائی تعاون ناگزیر، کوئی ملک تنہا مقابلہ نہیں کرسکتا:سربراہ پاک بحریہ

0

کراچی: پاک بحریہ کے سربراہ  ایڈ مرل نوید اشرف  نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں سمندری خطرات کی شدت اور تنوع اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ کوئی بھی ملک اکیلے ان کا مؤثر مقابلہ نہیں کرسکتا، اس لیے تعاون پر مبنی میری ٹائم سکیورٹی ناگزیر ہوچکی ہے۔

سری لنکن میڈیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک کا تصور کسی بلاک سیاست یا فوجی اتحاد کی شکل اختیار نہیں کرنا چاہیے جس سے بعض ممالک کو الگ تھلگ کیا جائے یا علاقائی توازن متاثر ہو۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار سمندری تجارت پر ہے، خصوصاً توانائی کی درآمدات، جن میں پیٹرول اور ایل این جی شامل ہیں، Strait of Hormuz اور بحیرہ عرب کے راستے پاکستان پہنچتی ہیں۔ ان کے مطابق سمندری راستوں میں کسی بھی قسم کا خلل براہ راست اقتصادی استحکام کو متاثر کرسکتا ہے۔

پاک بحریہ کے سربراہ نے بتایا کہ حالیہ  امریکہ ، اسرایئل  ایران جنگ  کے تناظر میں پاکستان نیوی نے "آپریشن محافظ البحر” شروع کیا ہے تاکہ سمندری راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور توانائی کی ترسیل بلا تعطل جاری رہے۔ اس ضمن میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ساتھ مل کر تجارتی جہازوں کی سکیورٹی کیلئے ایسکورٹ آپریشنز بھی کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوی نے جدید فریگیٹس، کارویٹس اور آف شور پیٹرول ویسلز کو شامل کر کے اپنی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جن میں چین سے حاصل کردہ Type-054 A/P فریگیٹس اور ترکیہ سے لیے گئے MILGEM کلاس کارویٹس شامل ہیں۔ اسی طرح ہنگور کلاس آبدوزوں کی شمولیت سے زیرِ سمندر دفاعی صلاحیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔

ایڈمرل نوید اشرف کے مطابق پاک بحریہ اب ملٹی ڈومین آپریشنز کی جانب بڑھ رہی ہے، جس میں سائبر، اسپیس، بغیر عملے کے نظام اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید عناصر شامل ہیں، تاکہ ابھرتے ہوئے خطرات کا جامع انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ انڈو پیسیفک میں بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹیجک مسابقت خطے کے ممالک کیلئے پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہی ہے، تاہم پاکستان پرامن بقائے باہمی اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

سری لنکا کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملک اہم سمندری راستوں پر واقع ہونے کے باعث علاقائی استحکام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ پاکستان اور سری لنکا کی بحری افواج کے درمیان تعاون تاریخی اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی میری ٹائم قانون، آزاد نیوی گیشن اور سب کو شامل کرنے والے میری ٹائم آرڈر کا حامی ہے، اور سی ٹی ایف 150 اور 151 جیسے بین الاقوامی اقدامات میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.