ایران پر حملوں کے باعث تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے متجاوز
نیویارک :ایران سے جاری جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں شدید ہلچل پیدا ہوگئی ہے اور جمعے کے روز تیل کی قیمتیں بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہو گئیں، جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
امریکی خام تیل کی قیمت ابتدائی تجارت میں 9 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ 91 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو اکتوبر 2023 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
دوسری جانب عالمی معیار برینٹ خام تیل بھی 6 فیصد سے زیادہ اضافے کے بعد 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا، جو اپریل 2024 کے بعد سب سے زیادہ قیمت ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کویت نے ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم ہونے کے باعث بعض آئل فیلڈز میں پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے، تاہم اس خبر کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ سوائے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے ایران کے ساتھ کسی معاہدے کا امکان نہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خراب معاشی اعداد و شمار کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی کمی دیکھی گئی۔ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 1.6 فیصد سے زیادہ کمی،ڈاؤ جونز تقریباً 900 پوائنٹس نیچے،نیس ڈیک میں 1.4 فیصد کمی۔رپورٹ کے مطابق فروری میں معیشت سے 92 ہزار ملازمتیں ختم ہو گئیں جس سے معاشی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز میں سینکڑوں آئل اور ایل این جی بردار جہاز پھنس گئے ہیں اور عالمی منڈی تک نہیں پہنچ پا رہے۔ان کا کہنا ہے کہ عام حالات میں دنیا کی 20 فیصد یومیہ تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو آئندہ ہفتے تک عالمی تیل سپلائی میں 40 لاکھ بیرل یومیہ تک کمی آ سکتی ہے۔جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکی خام تیل کی قیمت 30 فیصد سے زیادہ بڑھ چکی ہے جس کے باعث صارفین کے لیے پیٹرول بھی مہنگا ہو گیا ہے۔امریکا میں پیٹرول کی اوسط قیمت 3.32 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔
