بلوچستان میں سردار کی مرضی کے بغیر جلسہ ممکن نہیں، زائرین کے قتل ہوتے رہے: محمود خان اچکزئی

0

اسلام آباد: قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بعض علاقوں میں سردار کی مرضی کے خلاف جلسہ نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ماضی میں بسوں سے زائرین کو اتار کر شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد قتل کیا جاتا رہا ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہمارے درمیان فاصلے کم ہونے چاہئیں اور اس ایوان کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئی کی گیس پورے پاکستان تک پہنچ گئی ہے لیکن آج بھی سوئی کے عوام اس سہولت سے محروم ہیں۔

بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ دہشت گردی جہاں بھی ہو، وہ خطرناک ہے اور اس کا سدباب ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی عناصر آ کر ہمیں آپس میں لڑاتے ہیں اور یہ ہم سب کے لیے ایک امتحان ہے۔

محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ ہمیں مل بیٹھ کر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، بہترین حل یہی ہے کہ تمام مسائل کا حل باہمی مشاورت سے نکالا جائے۔ ان کے مطابق ملک کے تمام مسائل کا حل ایک مضبوط پارلیمنٹ میں مضمر ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.