این ڈی ایم اے کا شدید سردی کی لہر کا الرٹ، ٹرانسپورٹ نظام اور بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ

0

اسلام آباد:نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) نے ملک کے بالائی اور شمالی علاقوں کے لیے سردی کی شدید لہر کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے ذریعے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران گلگت بلتستان، بالائی خیبرپختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں شدید سردی کی لہر متوقع ہے، جس کے باعث بلند اور پہاڑی علاقوں میں درمیانی سے شدید برفباری کا امکان ہے۔

بیان کے مطابق رات اور علی الصبح کے اوقات میں موسم انتہائی سرد رہنے کا امکان ہے جبکہ دن کے وقت درجہ حرارت معمول سے کم رہ سکتا ہے۔ برفباری کے باعث پہاڑی علاقوں میں سڑکوں کی بندش، ٹرانسپورٹ نظام اور بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملحقہ میدانی علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے جبکہ بعض مقامات پر پالا پڑ سکتا ہے۔ موجودہ موسمی صورتحال کے باعث پہاڑی علاقوں میں برفانی تودے گرنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں، جو انسانی جانوں، بنیادی ڈھانچے اور مویشیوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شدید سردی اور برفباری بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے، جبکہ قریبی میدانی علاقوں میں پالا فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

این ڈی ایم اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خاص طور پر برفباری اور بلند علاقوں کی جانب، اور اگر سفر ناگزیر ہو تو سنو چینز کے استعمال کو یقینی بنائیں۔

عوام کو گرم کپڑوں، حرارتی انتظامات اور محفوظ رہائش کا بندوبست کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے، خصوصاً کمزور اور حساس طبقوں کے تحفظ پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اتھارٹی نے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے، برف ہٹانے کے انتظامات، ہنگامی ردعمل اور بجلی و مواصلاتی نظام کی بروقت بحالی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اپ ڈیٹس جاری کی جائیں گی۔

عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ مستند معلومات کے لیے ٹی وی، ریڈیو، تصدیق شدہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ موبائل ایپ سے رجوع کریں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.