امریکہ ایران پر حملہ نہ کرے، ورنہ عالمی آئل مارکیٹ ہل جائے گی: سعودی عرب، قطر اور عمان کا انتباہ
نیویارک: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی عرب کی قیادت میں خلیجی ممالک نے ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی کھل کر مخالفت کر دی اور واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ ایسی کسی کارروائی کے سنگین عالمی معاشی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
اخبار کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان نے امریکا کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو عالمی آئل مارکیٹ شدید عدم استحکام کا شکار ہو جائے گی، جس کا براہِ راست نقصان امریکی معیشت کو بھی پہنچے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ بظاہر یہ عرب ممالک خاموش نظر آتے ہیں، تاہم پس منظر میں وہ بھرپور سفارتی لابنگ کر رہے ہیں تاکہ امریکا کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے روکا جا سکے۔ خلیجی ریاستوں کا مؤقف ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں عالمی توانائی منڈی کو شدید دھچکا لگے گا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی حکام نے تہران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی تنازع میں فریق نہیں بنیں گے اور امریکا کو ایران پر حملے کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ اقدام امریکی فوجی کارروائی سے خود کو الگ رکھنے اور اسے روکنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اخبار کے مطابق عرب ریاستوں کو خاص طور پر اس بات کا خدشہ ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ اہم آبی گزرگاہ خلیج فارس کے دہانے پر واقع ہے اور دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کے خلاف کس نوعیت کی فوجی کارروائی زیرِ غور ہے، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا امکان موجود ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ایران کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں۔ عہدیدار کے مطابق صدر مختلف آرا سنتے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ وہ خود کرتے ہیں جسے وہ بہتر سمجھتے ہیں۔
