ٹرمپ کی سخت وارننگ کے بعد وینزویلا کا لہجہ نرم، امریکہ کو تعاون کی پیشکش

0

کاراکس :وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی رودریگز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت وارننگ کے بعد اپنے مؤقف میں نمایاں نرمی لاتے ہوئے امریکا کے ساتھ تعاون کی پیشکش کر دی ہے۔ اس پیشرفت کو واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان کشیدہ تعلقات میں ممکنہ سفارتی موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانوی اخبارگارجین کی رپورٹ کے مطابق ڈیلسی رودریگز نے کہا ہے کہ وینزویلا امریکہ کے ساتھ مشترکہ تعاون کے ایک باہمی ایجنڈے پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وینزویلا نے امریکی حکومت کو باضابطہ طور پر تعاون پر مبنی ایجنڈے پر مل کر آگے بڑھنے کی دعوت دی ہے۔

ڈیلسی رودریگز کا کہنا تھا کہ خطے میں استحکام، معاشی تعاون اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اختلافات کے باوجود مکالمہ اور سفارت کاری ہی مسائل کے حل کا مؤثر راستہ ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور وینزویلا کے تعلقات طویل عرصے سے پابندیوں، سخت بیانات اور سیاسی تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا کی جانب سے لہجے میں نرمی اور تعاون کی پیشکش مستقبل میں مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتی ہے، تاہم اس کے عملی نتائج کا انحصار امریکی ردعمل اور آئندہ سفارتی اقدامات پر ہوگا۔

دوسری جانب ناقدین کا خیال ہے کہ یہ پیشکش بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ اور معاشی مشکلات کے تناظر میں کی گئی ہے، جبکہ حامیوں کے مطابق یہ قدم خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تعلقات کی بحالی کی جانب ایک مثبت اشارہ ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.