نئے میئر ظہران ممدانی کا پہلا بڑا فیصلہ، سابق میئر کے احکامات منسوخ، اسرائیل کا شدید ردعمل

0

نیویارک: نیویارک کے نئے میئر ظہران ممدانی نے اقتدار سنبھالتے ہی سابق میئر ایرک ایڈمز کے متعدد ایگزیکٹو احکامات منسوخ کر دیے، جس پر اسرائیل کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

ممدانی نے وہ تمام ایگزیکٹو آرڈرز ختم کر دیے جو 26 ستمبر 2024 کے بعد جاری کیے گئے تھے، یعنی اس تاریخ کے بعد جب سابق میئر ایرک ایڈمز پر رشوت اور فراڈ کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

اس فیصلے پر اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ میئر ظہران ممدانی نے سابق میئر کے حالیہ احکامات منسوخ کر کے ’’یہود دشمنی کی بھڑکتی آگ پر پٹرول ڈال دیا ہے‘‘۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ نیویارک کے میئر کے طور پر اپنے پہلے ہی دن ظہران ممدانی نے اپنا اصل چہرہ دکھا دیا۔ بیان کے مطابق انہوں نے یہود دشمنی کی IHRA (انٹرنیشنل ہولوکاسٹ ریمیمبرنس الائنس) تعریف کو منسوخ کر دیا اور اسرائیل کے بائیکاٹ پر عائد پابندیاں بھی اٹھا لیں۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ طرزِ عمل قیادت نہیں بلکہ یہود دشمنی کی آگ کو مزید بھڑکانے کے مترادف ہے۔

دوسری جانب کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) اور شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے میئر ظہران ممدانی کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ IHRA کی تعریف آزادیٔ اظہار کو محدود کرتی تھی اور اس کے تحت اسرائیلی حکومت پر تنقید کو غلط طور پر سام دشمنی قرار دیا جاتا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ظہران ممدانی کے اس پہلے بڑے فیصلے نے نہ صرف نیویارک کی مقامی سیاست بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.