27ویں آئینی ترمیم پر اتفاق رائے کی کوششیں تیز، وزیراعظم کا سپیکر ایاز صادق کو اہم ٹاسک،حکومت اگلے ہفتے منظوری کی متوقع
اسلام آباد:وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے سیاسی مشاورت کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ترمیم پر پارلیمانی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ذمہ داری سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو سونپ دی ہے۔
ذرائع کے مطابق سپیکر ایاز صادق نے آج شام 4 بجے تمام پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس اسپیکر لاؤنج، پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، اور اتحادی جماعتوں کے چیف وہپس سمیت تمام پارلیمانی لیڈرز کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کے خدوخال پر بریفنگ دی جائے گی اور ترمیم کی منظوری سے متعلق آئندہ کی حکمتِ عملی طے کی جائے گی۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق پارلیمانی رہنماؤں سے انفرادی ملاقاتیں بھی کریں گے تاکہ مختلف جماعتوں کے تحفظات سنے جائیں اور مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔ذرائع نے بتایا کہ اگر پارلیمانی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے نہ ہوا تو حکومت اپنی عددی اکثریت کے بل پر ترمیم منظور کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے اپنے تمام اراکینِ قومی اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کردی ہے تاکہ پارلیمانی کارروائی کے دوران مکمل حاضری یقینی بنائی جاسکے۔
وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کی تیاری شروع کردی ہے۔ مجوزہ ترمیم کے مطابق آرٹیکل 243 میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے، جس کے ذریعے آرمی چیف کو دیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئین میں باقاعدہ تسلیم کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ترمیم میں آئینی عدالتوں کے قیام، ایگزیکٹو مجسٹریسی نظام کی بحالی اور اسے ضلعی سطح پر منتقل کرنے اور پورے ملک میں یکساں نصاب کے نفاذ جیسے نکات بھی زیرِ غور ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کا ہدف ہے کہ آئینی ترمیم کا بل اگلے ہفتے پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے۔
تجزیہ کاروں کی رائے:
سیاسی و آئینی امور کے ماہرین کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک بڑی پیش رفت تصور کی جائے گی، تاہم اس کے بعض نکات پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث متوقع ہے۔
سینئر تجزیہ کار عاصم قریشی کا کہنا ہے کہ "آرمی چیف کے عہدے کو فیلڈ مارشل کے طور پر آئین میں تسلیم کرنا سول ملٹری تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے، لیکن اس سے طاقت کے توازن پر سوالات بھی جنم لیں گے۔”
آئینی ماہر شاہد محمود نے کہا کہ "آئینی عدالتوں کا قیام بظاہر عدالتی بوجھ کم کرنے کی کوشش ہے، تاہم اس سے عدلیہ کے اندر ایک نیا ڈھانچہ تشکیل پائے گا جس کے اثرات طویل المیعاد ہوں گے۔”
تجزیہ کار ڈاکٹر صدف حیات کے مطابق "پورے ملک میں ایک ہی نصاب کا نفاذ مثبت اقدام ہوسکتا ہے، مگر اس کے عملی نفاذ کے لیے صوبائی خودمختاری اور نصابی معیار کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہوگا۔”
تجزیہ کاروں کا مجموعی خیال ہے کہ اگر حکومت نے ترمیم کے حساس نکات پر پارلیمانی اتفاق رائے کے بغیر منظوری کی راہ اپنائی تو یہ ترمیم سیاسی تنازع کا باعث بن سکتی ہے، لہٰذا شفاف مکالمہ اور بین الجماعتی مشاورت وقت کی اہم ضرورت ہے۔
