حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات ناکام، وجوہات سامنے آگئیں
مظفرآباد: حکومتِ آزاد کشمیر اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان 13 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود بات چیت کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات کو تسلیم کرلیا تھا، تاہم باقی دو مطالبات کو غیر آئینی اور افراتفری پھیلانے کے مترادف قرار دے کر مسترد کردیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے عوامی مطالبات کے پردے میں اپنے احتجاج کو ریاست مخالف ایجنڈے میں بدل دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کمیٹی کے غیر آئینی مطالبات نہ صرف کشمیری عوام کی خواہشات کے منافی ہیں بلکہ اس کے پیچھے بیرونی ایجنڈا بھی کارفرما ہوسکتا ہے۔
حکومتی حلقوں کے مطابق کمیٹی کا اصل مقصد عوامی مسائل کا حل نہیں بلکہ انتشار پیدا کرنا، حکومت پر دباؤ ڈالنا اور ریاستی وسائل پر قبضہ جمانا ہے۔ اس صورتحال نے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
