سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر ایرانی حملے، امریکی وزیر خارجہ کا جھوٹ بے نقاب
واشنگٹن :امریکی میڈیا نے سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے پر ہونے والے ایرانی حملوں کی تفصیلات ظاہر کرتے ہوئے ہونے والے نقصان کو ظاہر کی گئی تباہی سے زیادہ نقصان قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کا ایک ڈرون امریکی سفارتخانے کی عمارت سے آکر ٹکرایا تو عمارت میں سوراخ بن گیا، اس سوراخ میں ایک ہی منٹ بعد دوسرا ڈرون بھی آٹکرایا، عمارت میں محفوظ ترین حصے بھی نشانہ بنے، امریکی سفارتخانے میں لگی آگ آدھے دن تک بجھائی نہ جا سکی تھی۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حملے سے نقصانات کے بارےمیں جو بات کہی تھی وہ غلط تھی، ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے سے عمارت میں لگی آگ سے بڑی تباہی ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سفارتخانے میں 3 فلورز کو شدید نقصان پہنچا، سی آئی اے اسٹیشن بھی نشانہ بنا، چند گھنٹے بعد کئی اور ڈرونز بھی داغے گئے جنہیں میزائل دفاعی نظام سے روکا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک ڈرون سعودی عرب میں اعلیٰ امریکی سفارتکار کی رہائش گاہ پر لگنےکا خدشہ تھا، رہائش گاہ سفارتخانے سے چند سوفٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔
سابق سی آئی اے اہلکار برنارڈ ہڈسن کا اس حوالے سے کہنا ہے ایران کے حملے سے ظاہر ہوتا ہے وہ ریاض میں ہر ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، ایران نے پرنس سلطان ائیر بیس پر بھی حملہ کیا تھا، اس حملے میں ایواکس طیارہ اور ری فیولنگ طیارے بھی نشانہ بنائے گئے تھے، امریکا کا میزائل دفاعی نظام دونوں حملے روکنے میں ناکام رہا تھا۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے ایران نے جمعےکو امریکا کے 2 لڑاکا طیارے اے 10 اور ایف 15کو نشانہ بنایا جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے جمعےکو امریکا کا ایک ایف35 طیارہ بھی نشانہ بنایا گیا، اس کے علاوہ پاسداران انقلاب گارڈز نے کویت میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
