ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں، ایران کا دوٹوک مؤقف

0

تہران:ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران موجودہ حالات میں جنگ اور مذاکرات، دونوں راستوں کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ دنوں میں ملک میں تشدد میں اضافہ ہوا، تاہم اب صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔

ایک بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ہفتے کے آخر میں بعض دہشت گرد عناصر نے مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر پرامن مظاہرے ہوئے، مگر گزشتہ چند دنوں میں یہ احتجاج پرتشدد رخ اختیار کر گئے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ دو ہفتوں کے دوران مظاہروں کے سلسلے میں 350 مساجد کو نذرِ آتش کیا گیا، تاہم ایرانی سکیورٹی فورسز نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تحمل اور صبر کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے کئی مطالبات جائز تھے اور حکومت ان مطالبات کو سن بھی رہی تھی۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مبینہ مداخلت کے بیانات کے بعد احتجاج خونریز ہو گئے، تاکہ بیرونی مداخلت کے لیے جواز پیدا کیا جا سکے۔ ان کے مطابق ایران ایسے کسی بھی دباؤ یا مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایران امن کا خواہاں ہے، مگر اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو ایران بات چیت کے لیے تیار ہے، اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا جواب دینے کی بھی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں استحکام اور امن چاہتا ہے، مگر کسی بھی جارحیت کی صورت میں اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.