آپریشن غضب للحق: پاکستان میں دہشت گردی میں واضح کمی

0

اسلام آباد: پاکستان میں سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں اور جامع حکمت عملی کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

 تحقیقاتی ادارے سنٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی شائع شدہ رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 میں دہشت گردی کے واقعات فروری کے مقابلے میں 59 فیصد کم ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 57 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی دہشت گردانہ حملوں میں واضح کمی دیکھی گئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں دہشت گردی کے واقعات اور اس سے ہونے والی اموات میں کمی واقع ہوئی، اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں دہشت گردوں کی ہلاکتیں بڑھیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز زیادہ مربوط، مؤثر اور مہلک ثابت ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے ناپاک عزائم زمیں بوس ہو رہے ہیں۔

 خاص طور پر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان نے بلوچستان، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں حملے کیے، تاہم سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیوں نے ان کے حملوں کو محدود کر دیا۔رپورٹ کے مطابق 2026 کے پہلے تین ماہ میں مجموعی طور پر دہشت گردی کے واقعات میں 18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

پس منظر:

پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن غضب للحق 2025 میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد ملک بھر میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔

 اس آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائیاں کیں، متعدد دہشت گرد ہلاک یا گرفتار ہوئے، اور ملک میں مجموعی طور پر دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.