’میرے پاس اب پیسے بھی نہیں‘، جیل جانے سے پہلے اداکار راجپال یادو جذباتی ہوگئے
ممبئی :معروف بالی ووڈ اداکار راجپال یادو نے چیک باؤنس کیس میں تہاڑ جیل میں خود کو سرنڈر کرنے سے قبل جذباتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس واجب الادا رقم نہیں ہے۔
اداکار راجپال یادو کا نام چیک باؤنس کیس سے جڑا ہوا ہے۔ انہیں تقریباً 2.5 کروڑ روپے کے چیک باؤنس کیس میں تہاڑ جیل میں خود کو سرنڈر کرنے کا کہا گیا تھا۔
حالیہ رپورٹ کے مطابق اداکار نے حکام کے سامنے پیش ہونے سے پہلے ایک جذباتی بیان دیا۔انہوں نے کہا کہ ’سر، کیا کروں؟ میرے پاس پیسے نہیں ہیں اور کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا یہاں ہم سب اکیلے ہیں۔ دوست کوئی نہیں ہے۔ مجھے اس بحران کا سامنا خود کرنا ہوگا‘۔
یہ قانونی معاملہ 2010 سے چل رہا ہے جب راجپال یادو نے اپنی ہدایت کاری کی فلم ’اتا پتا لاپتا‘ کے لیے مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے 5 کروڑ روپے قرض لیے تھے۔ فلم کی ناکامی کے بعد اداکار مالی مشکلات کا شکار ہوئے اور کئی چیک باؤنس ہو گئے جس کے نتیجے میں قانونی کارروائی شروع ہوئی۔
اپریل 2018 میں مجسٹریٹ کی عدالت نے راجپال یادو اور ان کی اہلیہ کو نیگوٹیبل انسٹرومنٹس ایکٹ کی سیکشن 138 کے تحت مجرم قرار دیا اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ اداکار نے اس فیصلے کے خلاف متعدد اپیلیں دائر کیں، لیکن معاملہ طویل عرصے تک عدالت میں جاری رہا اور واجب الادا رقم تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
اس دوران اداکار نے قرض کی کچھ رقم واپس کی جس میں 2025 میں 75 لاکھ روپے کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ تاہم بار بار کی تاخیر پر عدالت نے ان کے ارادے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ’سنجیدگی کی کمی‘ نظر آ رہی ہے۔
4 فروری 2026 کو جسٹس سوارنا کانتا شرما نے یادو کی حتمی درخواست کو یہ کہنے کے لیے مسترد کر دیا کہ انہیں فنڈز کے انتظام کے لیے ایک ہفتے کی مزید مہلت دی جائے۔
عدالت نے واضح کیا کہ بار بار نرمی نہیں دی جا سکتی، وہ چاہے کوئی مشہور ہی کیوں نہ ہو اور اداکار کو فوراً سپرنڈر کرنے کا حکم دیا۔