بھارت نے آئی سی سی ایونٹ بھی سیاست کی نذر کر دیا، انڈر 19 ورلڈ کپ میں بھارتی کپتان کا بنگلہ دیشی کپتان سے ہاتھ ملانے سے انکار
ڈھاکہ: بھارت کی جانب سے کرکٹ کو سیاست زدہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب یہ طرزِ عمل آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ تک جا پہنچا ہے۔ ٹورنامنٹ کے ایک میچ میں ٹاس کے موقع پر بھارتی کپتان نے بنگلہ دیشی کپتان سے ہاتھ نہیں ملایا، جو آئی سی سی ایونٹس کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی انڈر نائنٹین ورلڈ کپ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ٹاس کے دوران دونوں کپتانوں کے درمیان ہینڈ شیک نہیں ہوا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان جاری کشیدگی اور حالیہ تنازعات کا تسلسل ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں بھارت میں بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے نکالنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا، جس کے بعد کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے مستفیض الرحمان کو ٹیم سے ریلیز کر دیا۔ اس اقدام کے جواب میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹیم بھارت بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے آئی سی سی سے نیوٹرل وینیو کا مطالبہ کیا۔
معاملہ مزید بڑھا تو آئی سی سی نے بات چیت کے لیے دو رکنی وفد بنگلہ دیش بھیجنے کی تیاری کی، تاہم بنگلہ دیشی حکومت نے ابتدا میں وفد میں شامل بھارتی رکن گورو سکسینا کو ویزہ دینے سے انکار کیا، بعد ازاں آمادگی ظاہر کی گئی۔
واضح رہے کہ ہاتھ نہ ملانے کی روایت کی بنیاد گزشتہ سال ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی میں بھی دیکھی گئی تھی، جب پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کے دوران بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے ہاتھ نہیں ملایا۔ میچ کے بعد بھی دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے سے مصافحہ نہیں کیا تھا۔
اس ایونٹ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تین میچز ہوئے اور تینوں مرتبہ کھلاڑیوں اور کپتانوں نے ہینڈ شیک سے گریز کیا۔ اسی طرح رائزنگ اسٹار ایونٹ اور انڈر 19 ایشیا کپ میں بھی دونوں ممالک کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملایا، حالانکہ دیگر کھیلوں میں پاکستانی اور بھارتی کھلاڑی معمول کے مطابق مصافحہ کرتے رہے۔