5 دہائیوں بعد انسان چاند کے مدار میں واپسی کے لیے تیار، ناسا کا آرٹیمس 2 مشن فروری 2026 میں روانہ ہوگا
واشنگٹن:امریکی خلائی ادارہ ناسا 5 دہائیوں بعد انسان بردار خلائی مشن آرٹیمس 2 کے ذریعے چاند کے مدار میں انسانی واپسی کے لیے تیار ہے۔ یہ مشن فروری 2026 میں روانہ کیا جائے گا اور اس کے لیے ناسا نے حتمی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
اسپیس لانچ اور مشن کی تیاری
ناسا کی جانب سے اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ اور اورین اسپیس کرافٹ کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اسپیس کرافٹ کو 17 جنوری یا اس کے بعد کسی وقت منتقل کیا جائے گا، جبکہ مشن کا آغاز 6 فروری کو طے ہے۔ تاہم مشن کا شیڈول موسم اور تکنیکی عوامل پر منحصر ہے۔
مشن کی اہم تفصیلات
آرٹیمس 2 ایک 10 روزہ مشن ہوگا جس میں 4 خلا باز اورین اسپیس کرافٹ میں نصب لائف سپورٹ سسٹمز کی جانچ کریں گے تاکہ مستقبل میں طویل مشنز ممکن ہو سکیں۔ یہ مشن پہلے زمین کے مدار میں دو بار پرواز کرے گا اور پھر چاند کے اس حصے کی جانب روانہ ہوگا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔
آرٹیمس 2 میں شامل خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے، مگر یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہوگا جب انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر چاند کے گرد جائیں گے۔ اس مشن کا مقصد ناسا کےآرٹیمس 3 مشن کی تیاری اور صلاحیت جانچنا ہے، جس میں 2027 میں انسان دہائیوں بعد چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔
آرٹیمس مشنز کی تاریخ
آخری بار ناسا نے 1972 میں اپولو پروگرام کے تحت انسان بردار مشن کے ذریعے چاند پر بھیجا تھا۔ نومبر 2022 میں انجام پانے والا آرٹیمس 1 مشن بغیر انسانی عملے کے چاند کے گرد گیا اور کامیابی سے واپس آیا۔
آرٹیمس 2 مشن کو ناسا کے سب سے طاقتور راکٹ SLSکے ذریعے روانہ کیا جائے گا، جس کا پہلے آرٹیمس 1 میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔ جبکہ آرٹیمس 3 مشن کے لیے اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے انسان کو چاند کی سطح تک بھیجا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آرٹیمس 2 مشن ناسا کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ یہ مستقبل کے انسانی خلائی مشنز اور طویل عرصے تک خلا میں موجودگی کے لیے بنیادی تجربات فراہم کرے گا۔