گرین لینڈ تنازع:امریکی صدر ڈونلڈ  ٹرمپ کا برطانیہ اور یورپی ممالک پر اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان

0

واشنگٹن :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے معاملے پر برطانیہ، ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک کے خلاف اضافی تجارتی ٹیرف عائد کرنے کے منصوبے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اقدام نیٹو اتحادی ممالک کے ساتھ امریکا کے تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کا باعث بن گیا ہے۔

امریکی صدر کے مطابق یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے امریکا بھیجی جانے والی تمام اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ یکم جون سے یہ شرح بڑھا کر 25 فیصد کر دی جائے گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیرف اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک گرین لینڈ کے مکمل اور حتمی حصول سے متعلق کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔

امریکی صدر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کئی برسوں سے ڈنمارک اور یورپی یونین کو ٹیرف نہ لگا کر مالی طور پر فائدہ پہنچاتا رہا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ڈنمارک اس کا جواب دے۔ ان کے مطابق عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں اور چین کی جانب سے گرین لینڈ میں دلچسپی صورتحال کو مزید حساس بنا رہی ہے۔

واشنگٹن میں مبصرین کے مطابق یہ اعلان حیران کن اس لیے بھی ہے کہ چند دن قبل امریکا اور ڈنمارک کے حکام کے درمیان ایک ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق ہوا تھا، جسے معاملے میں وقت حاصل کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم نئے ٹیرف نے اس تنازع کو فوری نوعیت دے دی ہے۔

برطانیہ کی حکومت حالیہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ کے ساتھ محتاط سفارتی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے تھی، جس کے تحت بعض متنازع امریکی اقدامات پر تنقید سے گریز کیا گیا، تاہم یہ مؤقف واضح رکھا گیا کہ گرین لینڈ کا مستقبل وہاں کے عوام اور ڈنمارک کا حق ہے۔ اب امریکی اقدام کو برطانوی حکومت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے صدر ٹرمپ کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کیے تھے اور لندن کو امید تھی کہ یہ خصوصی تعلقات برطانیہ کے حق میں جائیں گے، لیکن مجوزہ ٹیرف نافذ ہونے کی صورت میں ڈاؤننگ اسٹریٹ کی حکمت عملی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق صورتحال سے نمٹنے کے لیے سفارتی سطح پر ہنگامی مشاورت شروع کر دی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.