بھارت پانی کو ہتھیار بنا رہا ہے، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل نہیں کیا جا سکتا: امریکی جریدہ

0

نیویارک :امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے حالیہ اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے چناب پر بھارت کا مجوزہ ’دُلہستی اسٹیج ٹو ہائیڈرو پاور منصوبہ‘ معاہدے کی روح اور شقوں کے خلاف ہے۔

 رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ پانی کو سیاسی اور تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا پورے خطے کے استحکام اور کروڑوں افراد کی غذائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دنیا کے پائیدار ترین آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے تحت مشرقی دریا بھارت کے لیے مختص اور مغربی دریا، جن میں سندھ، جہلم اور چناب شامل ہیں، پاکستان کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے باوجود برقرار رہا، جو اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر 260 میگاواٹ دُلہستی اسٹیج ٹو منصوبے کی منظوری بالائی کنٹرول اور معاہدے سے انحراف کی واضح مثال ہے۔ اگرچہ بھارت اسے ’رن آف دی ریور‘ منصوبہ قرار دیتا ہے، تاہم پانی کے بہاؤ کے وقت اور مقدار میں تبدیلی پاکستان کی زراعت اور معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

دی نیشنل انٹرسٹ نے خبردار کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل یا منسوخ نہیں کر سکتا اور دریائے چناب کا پانی پاکستان تک پہنچانا اس کی قانونی ذمہ داری ہے۔

 جریدے میں مزید بتایا گیا کہ بھارت بالائی آبی منصوبوں، ہائیڈرو پاور ڈیمز اور آبی ڈیٹا روک کر پانی کو تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اور معمولی رکاوٹ بھی پاکستان میں فصلوں، دیہی معیشت اور غذائی نظام پر بڑے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق پانی کی غیر یقینی صورتحال خاموش مگر خطرناک دباؤ پیدا کرتی ہے، جس کے اثرات فوری نظر نہیں آتے لیکن طویل مدت میں سماجی اور معاشی بحران پیدا کر سکتے ہیں۔

 بین الاقوامی آبی قوانین کے تحت زیریں ممالک کو دریاؤں کے پانی کے بلا رکاوٹ اور بروقت بہاؤ کا حق حاصل ہے اور بالائی ریاست کسی بھی صورت میں اس بہاؤ کو اس انداز میں تبدیل نہیں کر سکتی جس سے زیریں ملک کی معیشت متاثر ہو۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر سندھ طاس معاہدہ کمزور پڑا تو یہ دنیا کے دیگر آبی تنازعات کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے، جہاں پانی کو تعاون کے بجائے دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

 تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے اقدامات نہ صرف جنوبی ایشیا میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر آبی معاہدوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان بھی لگا سکتے ہیں۔

دی نیشنل انٹرسٹ نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کا تحفظ صرف پاکستان اور بھارت کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے امن، غذائی سلامتی اور ماحولیاتی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.