اسلام آباد:وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جواہرات و قیمتی پتھروں (Gemstones) کے شعبے کی اصلاحات، برآمدات میں اضافے اور اسے بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے قومی پالیسی فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی ہے۔
وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس میں رواں برس پالیسی فریم ورک کے تحت تفویض کردہ اقدامات پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان میں جواہرات و قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جن کی ترجیحی بنیادوں پر جدید جیولاجیکل سروے کے ذریعے جغرافیائی نشاندہی اور مالیت کا تعین ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس عمل میں تمام متعلقہ اداروں، صوبائی حکومتوں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔
وزیرِ اعظم نے بین الاقوامی معیار کی لیبارٹریز اور سرٹیفیکیشن نظام کے فوری نفاذ، بیرونی سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی اور رواں برس ملک میں جیم اسٹونز کے شعبے سے متعلق دو مثالی سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جواہرات کے بے پناہ ذخائر کے باوجود برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ پاکستانی قیمتی پتھر عالمی سطح پر اپنے اعلیٰ معیار کے باعث شہرت رکھتے ہیں۔ اسمگلنگ کی روک تھام اور قانونی برآمدات کے فروغ سے اربوں ڈالر کا قیمتی زرِ مبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
وزیرِ اعظم نے نجی شعبے، بالخصوص نوجوان آنٹرپرنیورز کی اس شعبے میں بھرپور حوصلہ افزائی، اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی معاونت سے پالیسی فریم ورک پر عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں جواہرات و قیمتی پتھروں کے ذخائر کا محتاط تخمینہ تقریباً 450 ارب ڈالر ہے۔ اس وقت ملک میں پانچ ہزار سے زائد کمپنیاں اور کاروبار اس شعبے سے وابستہ ہیں جو 30 سے زائد اقسام کے قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کر رہے ہیں، جن میں زمرد، زبرجد، یاقوت، پکھراج اور نیلگوں زبرجد نمایاں ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ 450 ارب ڈالر کے ذخائر کے مقابلے میں پاکستان کی سالانہ برآمدات محض 5.8 ملین ڈالرہیں۔ وزارتِ صنعت و تجارت کی جانب سے تیار کردہ قومی پالیسی فریم ورک کے تحت پانچ برسوں میں اصلاحات کے ذریعے اس شعبے کی برآمدات کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پالیسی فریم ورک میں ویلیو چین کی قومی معیشت میں شمولیت، مقامی پراسیسنگ کے ذریعے قدر میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کا نفاذ، نجی شعبے کیلئے تربیتی پروگرامز،برانڈ پاکستان کا تعارف، بین الاقوامی سرٹیفکیشن رجیم، اتھارٹی اور نیشنل وارنٹی آفس کا قیام، جیولاجیکل میپنگ اور جدید کان کنی جیسے اقدامات شامل ہیں۔وزیرِ اعظم نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی کہ شعبے کی ترقی کیلئے موجودہ مالی وسائل کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے۔