امریکی وزیرِ خزانہ کا ایران میں ڈالر کے شدید بحران پیدا کرنے کا اعتراف
واشنگٹن: امریکی وزارتِ خزانہ کے وزیر اسکاٹ کینتھ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران میں ڈالر کی شدید قلت کے پسِ پردہ امریکی اقدامات کارفرما تھے۔
اس بات کا اظہار انہوں نے سینیٹر کیٹی الزبتھ کے ایک سوال کے جواب میں کہی، جس میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں استفسار کیا گیا تھا۔
امریکی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ہم نے ایران میں ڈالر کا شدید بحران پیدا کیا، جس کے نتیجے میں دسمبر میں ایک ایرانی بینک دیوالیہ ہو گیا اور معاشی بحران مزید شدت اختیار کر گیا۔ ان کے مطابق امریکی اقدامات کے باعث ایران کے مرکزی بینک کو کرنسی نوٹ چھاپنے پڑے، جس سے ایرانی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی آئی اور مہنگائی بے قابو ہو گئی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دباؤ کی پالیسی کے تحت واشنگٹن نے ایران کی آئل ایکسپورٹس کو بھی صفر کر دیا، جس سے معاشی دباؤ بڑھا اور دسمبر میں پرتشدد مظاہروں کی راہ ہموار ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف 28 دسمبر کو پرامن مظاہروں کا آغاز ہوا، تاہم بعد ازاں موساد سے منسلک منظم گروہ ان مظاہروں میں شامل ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان گروہوں نے عوامی غصے کو تشدد میں تبدیل کیا اور مظاہرین، سکیورٹی فورسز، سرکاری عمارتوں اور مساجد کو نشانہ بنایا۔ایران میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران 3 ہزار 500 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔