امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے منقطع، ممکنہ فوجی حملوں کا خدشہ بڑھ گیا

0

واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان براہِ راست رابطے منقطع ہو گئے ہیں، جس کے بعد ممکنہ فوجی حملوں کے خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکا کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کے درمیان رابطے معطل ہو چکے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری مظاہروں کے بعد حکومتی کریک ڈاؤن پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے مداخلت کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ’’محبِ وطن لوگ‘‘ احتجاج جاری رکھیں اور اپنے اداروں پر قبضہ کریں، مدد راستے میں ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’’قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھیں، انہیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی‘‘۔

دوسری جانب تہران نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا گیا تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کی معطلی خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتی ہے اور کسی بھی غلط اندازے کے نتیجے میں صورتحال سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.