امریکہ  کا غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا اعلان، ڈی ملٹرائزیشن اور تعمیرِ نو کا آغاز

0

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے تیار کیے گئے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔

بدھ کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اسٹیو وِٹکوف نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی غزہ منصوبہ اب جنگ بندی سے آگے بڑھتے ہوئے ڈی ملٹرائزیشن، ٹیکنوکریٹک حکومت کے قیام اور تعمیرِ نو کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

وِٹکوف کے مطابق دوسرے مرحلے کے تحت غزہ میں ایک عبوری انتظامیہ قائم کی جائے گی جو علاقے کے انتظامی امور سنبھالے گی۔ اس مرحلے میں غزہ کو مکمل طور پر غیر فوجی (ڈی ملٹرائز) کیا جائے گا اور ساتھ ہی تعمیرِ نو کے عمل کا آغاز بھی کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا توقع کرتا ہے کہ حماس اپنی تمام ذمہ داریوں پر مکمل عمل کرے گی، جن میں آخری ہلاک شدہ یرغمالی کی لاش کی فوری واپسی بھی شامل ہے۔ اسٹیو وِٹکوف نے خبردار کیا کہ ان ذمہ داریوں کی تکمیل میں ناکامی کی صورت میں سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تفصیلی بیان میں اسٹیو وِٹکوف نے کہا کہ ’’آج صدر ٹرمپ کی جانب سے ہم غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کر رہے ہیں‘‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرے مرحلے کے تحت غزہ میں ایک عبوری ٹیکنوکریٹک فلسطینی انتظامیہ قائم کی جائے گی جسے نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی غزہ کی مکمل ڈی ملٹرائزیشن اور تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوگا، جس کا بنیادی مقصد غیر مجاز مسلح عناصر کو غیر مسلح کرنا ہے۔

اسٹیو وِٹکوف کے مطابق جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران تاریخی سطح پر انسانی امداد فراہم کی گئی، جنگ بندی کو برقرار رکھا گیا، تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کرایا گیا اور 28 میں سے 27 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں واپس لائی گئیں۔

انہوں نے اس پیش رفت میں مصر، ترکی اور قطر کے کردار کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ان ممالک کی ثالثی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.